Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گرین لینڈ سے تیل، گیس اور معدنیات کی دریافت کا آغاز ہونے والا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

گرین لینڈ روس اور امریکہ کے درمیان میزائلوں کی سب سے مختصر فضائی گزرگاہ پر واقع ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ گرین لینڈ میں تیل، گیس اور دیگر قیمتی معدنیات کی وسیع پیمانے پر دریافت کا عمل جلد شروع ہونے والا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکہ اور یورپ کی سکیورٹی کے لیے اس برفانی جزیرے کی جغرافیائی اہمیت کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن نے حال ہی میں گرین لینڈ اور ڈنمارک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس سٹریٹیجک خطے پر زبردستی قبضہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔
اپنی سوشل میڈیا سائٹ ‘ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پیغام میں امریکی صدر نے لکھا ’ہمارے نئے اور خوبصورت گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی وسیع پیمانے پر دریافت کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔‘
طبیعیاتی و ارضیاتی ماہرین کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’گرین لینڈ میں آسانی سے دستیاب تیل کی مقدار دنیا کے قریباً تمام خطوں سے کہیں زیادہ ہے۔‘
تاہم انہوں نے اس منصوبے میں امریکی کمپنیوں کی ممکنہ شمولیت یا تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔
اس سے قبل اگست میں گرین لینڈ کے ایک دور دراز مشرقی علاقے میں ایک امریکی آئل کمپنی کی ابتدائی سرگرمیوں سے متعلق خبروں پر مقامی آبادی اور انتظامیہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
’گولڈن ڈوم‘ اور امریکی سکیورٹی کا قلعہ
گرین لینڈ روس اور امریکہ کے درمیان میزائلوں کی سب سے مختصر فضائی گزرگاہ پر واقع ہے، یہی وجہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ دفاعی نظام ’گولڈن ڈوم‘ کے لیے یہ خطہ انتہائی بنیادی اور اہم حیثیت رکھتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس سٹریٹیجک خطے پر زبردستی قبضہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کے علاوہ گلیشیرز اور برف پگھلنے کے باعث کھلنے والے نئے بحری راستوں اور تاحال غیر دریافت شدہ نایاب معدنیات کی وجہ سے بھی عالمی معیشت میں گرین لینڈ کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے جغرافیائی محل وقوع کو امریکہ اور یورپ کے تحفظ کے لیے ’بے مثال‘ قرار دیا۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’امریکہ پر مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی حملہ گرین لینڈ کے راستے ہی آ سکتا ہے جہاں ہمارا دفاعی نظام ڈرونز، میزائلوں یا کسی بھی ایسے جدید ہتھیار کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کا ابھی تصور بھی نہیں کیا گیا۔ گرین لینڈ ہمیں وقت، جگہ اور نظر رکھنے کی وہ سہولت فراہم کرتا ہے جو دنیا میں کہیں اور ممکن نہیں۔‘
نئے امریکی فوجی اڈے
صدر ٹرمپ نے ستمبر میں گرین لینڈ اور ڈنمارک کی قیادت کے ساتھ 10 صفحات پر مشتمل ایک سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے کے تحت امریکہ جنوبی اور مشرقی گرین لینڈ میں دو نئے فوجی اڈے تعمیر کرے گا۔
یہ نئے اڈے جزیرے کے جنوبی علاقے نارساسواک اور مشرقی علاقے میسٹرزوگ میں قائم کیے جائیں گے۔ امریکہ پہلے ہی گرین لینڈ کے شمالی حصے میں پِٹوفک کے مقام پر اپنا ایک فوجی اڈہ فعال رکھے ہوئے ہے۔

شیئر: