Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کے دعوؤں کے خلاف واضح پیغام: کینیڈا اور فرانس نے گرین لینڈ میں قونصل خانے کھول دیے

گرین لینڈ کے یورپی یونین کے ساتھ سفارتی تعلقات 1992 سے، امریکہ کے ساتھ 2014 سے اور آئس لینڈ کے ساتھ 2017 سے قائم ہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)
کینیڈا اور فرانس، جو دونوں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کی سخت مخالفت کرتے ہیں، جمعے کے روز ڈنمارک کے خودمختار خطے گرین لینڈ کے دارالحکومت میں اپنے قونصل خانے کھول رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق دونوں ممالک کا یہ اقدام گرین لینڈ کی مقامی حکومت کی بھرپور حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گذشتہ سال وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد، ٹرمپ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ واشنگٹن کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس تزویراتی اور معدنی وسائل سے مالا مال آرکٹک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہیے۔
تاہم گزشتہ ماہ امریکی صدر نے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ساتھ ایک ’فریم ورک‘ معاہدہ کر لیا ہے، جس کے تحت امریکہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ یقینی بنایا جائے گا۔
امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے جو آرکٹک میں واشنگٹن کے سکیورٹی خدشات کو پورا کرنے کے طریقوں پر بات چیت کر رہا ہے، تاہم ان مذاکرات کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
اگرچہ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے سکیورٹی خدشات سے اتفاق کرتے ہیں، مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت مذاکرات میں ’سرخ لکیر ہیں۔
یونیورسٹی آف گرین لینڈ کے سیاسیات کے ماہر جپے سٹرینڈسبیئرگ نے کہا کہ ’ایک لحاظ سے، گرین لینڈ کے عوام کے لیے یہ ایک فتح ہے کہ دو اتحادی ممالک نوک میں سفارتی نمائندگی قائم کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے بیانات کے خلاف ملنے والی حمایت کو بہت سراہا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخوان نے جون میں نوک کے دورے کے دوران پیرس کی جانب سے قونصل خانہ کھولنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جہاں انہوں نے گرین لینڈ کے ساتھ یورپ کی یکجہتی کا اظہار کیا اور ٹرمپ کے عزائم پر تنقید کی۔

کینیڈا نے 2024 کے اواخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ گرین لینڈ میں قونصل خانہ کھولے گا تاکہ تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ (فوٹو: روئٹرز)

نئے تعینات ہونے والے فرانسیسی قونصل، ژاں نوئیل پواریے، اس سے قبل ویتنام میں فرانس کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
دوسری جانب کینیڈا نے 2024 کے اواخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ گرین لینڈ میں قونصل خانہ کھولے گا تاکہ تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
ڈینش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے آرکٹک امور کے ماہر اُلرک پرام گاڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ قونصل خانے کھولنا ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ پیغام دینے کا ایک طریقہ ہے کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کے خلاف ان کی جارحیت صرف انہی دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ یورپی اتحادیوں اور کینیڈا جیسے دوست اور اتحادی ملک کا بھی مسئلہ ہے۔‘
یورپا تھنک ٹینک کی سکیورٹی اور دفاعی تجزیہ کار کرسٹین نِسن نے کہا کہ ’یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے، مگر ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے اس مسئلے کو یورپی بنایا جا رہا ہے۔‘
سٹرینڈسبیئرگ کے مطابق، یہ دونوں قونصل خانے، جو کوپن ہیگن میں فرانسیسی اور کینیڈین سفارت خانوں سے منسلک ہوں گے، گرین لینڈ کو عملی طور پر خودمختار ہونے کی مشق کا موقع فراہم کریں گے، کیونکہ جزیرہ طویل عرصے سے کسی دن ڈنمارک سے تعلق ختم کرنے کا خواب دیکھتا رہا ہے۔
نِسن کے مطابق، سفارتی مشنز کھولنے کا فیصلہ گرین لینڈ کی بڑھتی ہوئی خودمختاری کا اعتراف بھی ہے، جس کی وضاحت 2009 کے سیلف گورنمنٹ ایکٹ میں کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اپنی خودمختاری کی جدوجہد کے تناظر میں، گرین لینڈ کے عوام یہ چاہیں گے کہ ان کا دیگر یورپی ممالک سے براہِ راست رابطہ ہو۔
پرام گاڈ نے اس خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ڈنمارک کے کردار کو کم کرنا ممکن ہو جائے گا۔
گرین لینڈ کے یورپی یونین کے ساتھ سفارتی تعلقات 1992 سے، امریکہ کے ساتھ 2014 سے اور آئس لینڈ کے ساتھ 2017 سے قائم ہیں۔
آئس لینڈ نے 2013 میں نوک میں اپنا قونصل خانہ کھولا تھا، جبکہ امریکہ، جس کا 1940 سے 1953 تک گرین لینڈ کے دارالحکومت میں قونصل خانہ موجود تھا، نے 2020 میں اپنی سفارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں۔ یورپی کمیشن نے 2024 میں وہاں اپنا دفتر کھولا۔

شیئر: