Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ گرین لینڈ کے جنوب اور مشرق میں دو فوجی اڈے قائم کرے گا

معاہدے کے ایک حصے کا مقصد امریکہ کے مخالفین چین اور روس کو آرکٹک میں قدم جمانے سے روکنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ گرین لینڈ کے جنوب اور مشرق میں دو فوجی اڈے قائم کرے گا، یہ فیصلہ امریکہ، گرین لینڈ اور ڈنمارک کے درمیان دستخط کیے گئے ایک وسیع سکیورٹی معاہدے کے تحت کیا گیا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جنوری 2025 میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد صدر ٹرمپ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ امریکہ کو سٹریٹجک وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ پر کنٹرول کی ضرورت ہے، جس سے نیٹو اتحادی ڈنمارک پریشان ہوا اور اتحاد کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
منگل کو واشنگٹن، کوپن ہیگن اور نوُک نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک 10 صفحات پر مشتمل معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت امریکہ کو ڈنمارک کے خودمختار آرکٹک علاقے میں سکیورٹی پر کنٹرول حاصل ہو گیا۔
اس معاہدے کے تحت واشنگٹن جزیرے کے جنوب میں نارسارسواک اور مشرق میں میسٹرزویگ میں فوجی اڈے قائم کرے گا، اس کے علاوہ شمال میں پہلے سے موجود پٹوفِک بیس بھی برقرار رہے گا۔
معاہدے میں ’مملکتِ ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘ کی تصدیق کی گئی اور گرین لینڈ کے ’حقِ خودارادیت‘ کو تسلیم کیا گیا۔
معاہدے کے ایک حصے کا مقصد امریکہ کے مخالفین چین اور روس کو آرکٹک میں قدم جمانے سے روکنا ہے۔ اس کے تحت غیر نیٹو اور غیر یورپی یونین ممالک کو گرین لینڈ کے سٹریٹجک شعبوں میں داخلے یا اثر و رسوخ سے روک دیا گیا ہے۔
معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ’فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی ریاست یا سرمایہ کار جو نیٹو، نیٹو پارٹنر یا یورپی یونین کا رکن نہیں ہے، اسے گرین لینڈ کے حساس شعبوں یا سرگرمیوں (بشمول علاقائی پانیوں) میں کنٹرول، نمایاں اثر و رسوخ یا غیر عوامی معلومات تک رسائی کی اجازت نہیں ہوگی، جب تک کہ فریقین اس بات پر متفق نہ ہوں کہ ان سرگرمیوں سے قومی سلامتی یا عوامی نظم کو خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔‘
معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ گرین لینڈ، جس کی آبادی 57 ہزار ہے، اگر ڈنمارک سے آزادی حاصل کر بھی لے تو اسے اس معاہدے پر عمل کرنا ہوگا اور نیٹو میں رہنا یا ضرورت پڑنے پر شامل ہونا لازمی ہوگا۔
1951  کے دفاعی معاہدے (جو 2004 میں اپڈیٹ ہوا) کے تحت واشنگٹن پہلے ہی جزیرے پر اپنی فوجی موجودگی بڑھا سکتا تھا، بشرطیکہ وہ پہلے ڈنمارک اور گرین لینڈ کو اطلاع دے۔

 

شیئر: