ٹرمپ نے ایران پر جوہری حملے کا امکان مسترد کر دیا، ’پک ایکس ماؤنٹین‘ ممکنہ ہدف قرار
ٹرمپ نے ایران پر جوہری حملے کا امکان مسترد کر دیا، ’پک ایکس ماؤنٹین‘ ممکنہ ہدف قرار
جمعہ 16 اکتوبر 2026 19:56
انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم انہوں نے ایرانی جوہری تنصیبات پر مزید حملوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو امریکی نیوز چینل نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘
جب ان سے اُن اطلاعات کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان کی انتظامیہ ممکنہ طور پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مبینہ طور پر ’مدر آف آل بمز‘ استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے، تو ٹرمپ نے کہا کہ یہ جوہری ہتھیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مدر آف آل بمز جوہری ہتھیار نہیں ہے۔ یہ صرف ایک انتہائی بڑا بم ہے۔ مدر آف آل بمز ایک بہت بڑا بم ہے، لیکن یہ جوہری نہیں ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ’پک ایکس ماؤنٹین‘ نامی ایک مشتبہ زیرِ زمین جوہری تنصیب مستقبل میں امریکی حملوں کا ہدف بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اب ہم پک ایکس ماؤنٹین پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے ہمیں وہاں جانا پڑے۔ ہم اس پر حملہ کریں گے اور اسے بہت جلد ختم کر دیں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایسی کارروائی میں امریکی زمینی فوج بھی شامل ہوگی تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، مجھے ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر اس مہم کا اختتام اس یقین کے بغیر کیا گیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا تو امریکہ کو ایک سال کے اندر دوبارہ فوجی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل سے فوجی کارروائیاں روکنے کی درخواست کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
مزید حملوں کے امکان کا ذکر کرنے کے باوجود ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور ایران اس وقت واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک نہ ایک طریقے سے یہ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ اور تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی، اسی طرح گیس کی قیمتیں بھی کم ہو جائیں گی۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل سے فوجی کارروائیاں روکنے کی درخواست کی ہے۔
ان کے بقول ’انہوں نے ہم سے کہا ہے کہ براہِ کرم حملے روک دیں۔ اور ہم ایسا کرتے ہیں کیونکہ ہم ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔‘