Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی فوج ایران کے خلاف ’مدر آف آل بمز‘ کے استعمال پر غور کر رہی ہے: سی این این

28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے ساتھ شروع ہونے جنگ ابھی جاری ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی نیوز چینل سی این این نے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ فوج نے ایران کے توانائی کے بنیادی انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات پر حملوں کا منصوبہ بنایا ہے جن میں ’مدر آف آل بمز‘ استعمال کرنے کا آپشن بھی شامل ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس بم کو امریکہ کے ہتھیاروں میں سب سے بڑا غیر جوہری بم سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا حکم دیے جانے کی صورت میں اس بم کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
امریکی فوج کی منصوبہ بندی سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ اس بم کے استعمال سے جنگ میں تیزی آ سکتی ہے تاہم اس کی کامیابی اور اس سے جڑے امریکی مقاصد کی افادیت کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔
روئٹر کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارہ اس رپورٹ کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کرا سکا۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ تاحال مکمل طور پر بند نہیں ہو پائی ہے اور فریقین ایک دوسرے پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ اگرچہ اس جنگ کی مکمل بندش کے لیے کئی ممالک ثالثی کے لیے میدان میں ہیں اور مذاکرات ہونے کے علاوہ ایک بار جنگ بندی اور عبوری معاہدہ ہو بھی چکا ہے تاہم وہ برقرار نہیں رہا اور اس کے بعد حملوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا تھا۔
ایران نے تیل کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند رکھا ہے جبکہ اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اس صورت حال کی وجہ سے پوری دنیا میں تیل کی تجارت متاثرہوئی ہے اور قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔
نومبر میں امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مہنگائی کی لہر کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں فرق پڑا ہے تاہم وہ اپنی اکثریت رکھنے کے لیے پرامید ہیں اور پچھلے دنوں انہوں نے کہا تھا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم ہو جائے گی۔

شیئر: