جزائر فرسان کا ’جبل کوشکش‘ غوطہ خوروں و ماہی گیروں کے لیے اہم کیوں تھا؟
جزائر فرسان کا ’جبل کوشکش‘ غوطہ خوروں و ماہی گیروں کے لیے اہم کیوں تھا؟
جمعہ 16 اکتوبر 2026 20:31
غوطہ خور یہاں اکھٹا ہو کر سیپیوں سے موتی نکالا کرتے تھے(فوٹو، ایس پی اے)
جازان ریجن میں بیشتر مقامات کا عہدِ رفتہ سے گہرا تعلق رہا ہے، ان ہی مقامات میں جزائر فرسان میں واقع ’جبل کوشکش‘ بھی شامل ہے۔
ساحل پر موجود یہ پہاڑی ماضی میں ماہی گیروں اور موتیوں کی تلاش میں غوطہ خوری کرنے والوں کے لیے کافی اہم مانا جاتا تھا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے ‘ کے مطابق علاقے کی تاریخ سے باخبر ٹور گائیڈ ’عثمان حمق‘ کا کہنا ہے کہ کوشکش پہاڑ کا شمار ماضی میں موتیوں کی تلاش میں غوطہ خوری کرنے والوں کے علاوہ ماہی گیروں کی سرگرمیوں کے لیے اہم مرکز کے طورپر مانا جاتا تھا۔
یہ پہاڑ فرسان کے چھوٹے جزیرے ’السقید‘ کے گاون ابوالطوق میں واقع ہے، جو فرسان شہر سے 60 کلو میٹر دوری پر ہے۔ اس جگہ کو ’شاطی کوشکش‘ یعنی کوشکش کا ساحل کہا جاتا ہے۔
جبل کوشکش اپنی منفرد چٹانی ساخت کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں مختلف اشکال کی چٹانیں، غار، قدرتی کھوہیں اور گزرگاہیں ہیں، جبکہ بعض چٹانیں قدرتی طورپر اس انداز میں باہر کونکلی ہوئی ہیں کہ وہ چھتریوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔
چٹان کی بناوٹ چھتری کی طرح پے جس کے سایے ماہی گیر آرام کرتے تھے(فوٹو، ایس پی اے)
کوشکش پہاڑ، ماضی میں سمندری سفر سے واپس آنے والے غوطہ خوروں کے لیے کافی اہم تھا کیونکہ وہ یہاں آرام کرتے اور اسی دوران سمندر کی تہہ سے جمع کی ہوئی سیپیاں کھولتے اور ان میں موجود موتیوں کو نکالتے تھے، جبکہ ماہی گیروں کےلیے بھی یہ مقام آرام کرنے اور سفر کی تھکان اتارنے کا اہم مرکز مانا جاتا تھا۔
ٹور گائیڈ عثمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں موجود بعض چٹانی ساختوں کی بلندی 3 سے 6 میٹر تک ہے۔ یہ مقام آ ج بھی اپنی قدرتی انفرادیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دورِ حاضر میں سیر و تفریح کے شوقین افراد یہاں کے ساحلی ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں جبکہ موسم سرما میں سیاحوں کی یہاں آمد میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔