Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قدرتی ماحول کا تحفظ: جزائر فرسان کا محفوظ علاقہ عالمی ماڈل کیسے بنا؟

جازان کے محفوظ علاقے نے تین بڑے بین الاقوامی سنگ میل حاصل کیے ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
جازان میں جزائر فرسان کے محفوظ علاقے نے فطرت کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی ماڈل کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔
نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کی رپورٹ کے مطابق جزائر فرسان نے اب تک تین بڑے بین الاقوامی سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ 
ان میں 2021 میں یونیسکو کے’مین اینڈ دی بائیوسفیئر‘ پروگرام کے تحت ورلڈ نیٹ ورک آف بائیو سفیئر ریزرو میں شامل ہونا، 2025 میں ’رامسر‘ کنوینشن کی بین الاقوامی ویٹ لینڈز کی فہرست میں اندراج اور 2026 میں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کی ’گرین لسٹ‘ میں شمولیت شامل ہیں۔
یہ کامیابی مملکت کے وژن 2030 اور سعودی گرین انیشیٹیو کے اہداف کے مطابق ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے مملکت کی جانب سے قدرتی وسائل کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع میں اضافے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

جزائر فرسان کا شمار سعودی عرب کے سب سے بڑے بحری محفوظ علاقوں میں ہوتا ہے۔ جزائر فرسان کا محفوظ علاقہ پانچ  ہزار657 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یہ 266 مرجانی جزیروں پر مشتمل ہے جہاں بھرپور حیاتیاتی تنوع  ہے۔
یہاں 180 اقسام کے پودے، 150 سے زائد اقسام کے پرندے اور 230 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں جبکہ یہ فرسانی ہرن، سمندری کچھوے اور ڈوگونگ (سمندری گائے) جیسے نایاب جانوروں کا بھی قدرتی مسکن ہے۔

فرسان کا محفوظ علاقہ آبی حیات کو گھنے مینگرووز اور مرجانی چٹانوں کے درمیان ایک اہم پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔
ماحولیاتی اہمیت کے علاوہ جزائر فرسان کے تاریخی اور ثقافتی مقامات بھی اسے بحیرۂ احمر کا ایک منفرد سیاحتی مقام بناتے ہیں۔

 

شیئر: