ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو میزائل جمعے کی شب یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر عدن کے ہوائی اڈے پر آ گرے جب ایک مسافر طیارہ پرواز کی تیاری کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
عرب نیوز کے مطابق یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں بتایا کہ ’میزائل یمنیہ ایئرویز کی پرواز آئی وائے612 سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر گرے جو قاہرہ روانہ ہونے والی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ میزائل رن وے کے وسطی حصے سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر گرے اور تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہے۔‘
مزید پڑھیں
-
حوثی میزائل سازی کی ٹیکنالوجی کیسے اور کہاں سے حاصل کر رہے ہیں؟Node ID: 909483
یہ حملہ ایک روز بعد کیا گیا جب حوثیوں کے عدن میں صدارتی محل کے کمپلیکس پر حملے میں وزارت صحت کے مطابق کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے تھے۔ 2015 میں یمنی خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے عدن بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا مرکز رہا ہے۔
معمر الاریانی نے جمعے کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسافروں، فضائی عملے اور شہری ہوا بازی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ اس واقعے میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ ہوا وہ صرف ایک شہری ہوائی اڈے پر حملہ نہیں تھا بلکہ مسافروں، فضائی عملے اور فضائی آمدورفت کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تھا، اور یہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘
نحمد الله على سلامة ركاب وطاقم رحلة الخطوط الجوية اليمنية رقم (IY 612)، المتجهة من مطار عدن الدولي إلى مطار القاهرة الدولي، والتي كانت تتجهز للإقلاع لحظة استهداف مليشيا الحوثي الإرهابية للمطار بصاروخين سقطا على بعد نحو 500 متر من الطائرة، ونحو 100 متر من منتصف مدرج الإقلاع. لقد حالت عناية الله دون وقوع كارثة إنسانية مروعة، كان يمكن أن تودي بحياة عشرات المسافرين الأبرياء. وما حدث ليس مجرد اعتداء على مطار مدني، بل تهديد مباشر لأرواح الركاب وأطقم الطيران، وسلامة الملاحة الجوية، وانتهاك خطير للقوانين والأعراف الدولية. إن استهداف مطار مدني يُسيّر عشرات الرحلات الجوية يومياً، وينقل المرضى الباحثين عن العلاج، والطلاب الساعين إلى مستقبلهم، والمغتربين العائدين إلى أسرهم أو المغادرين إلى أعمالهم، وآلاف اليمنيين الذين يعتمدون عليه نافذةً أساسيةً للتواصل مع العالم، ليس إنجازاً عسكرياً ولا نصراً يُتباهى به، بل اعتداء على حق اليمنيين في الحياة والتنقل والعلاج والتعليم، وتهديد مباشر لأرواح الأبرياء وسلامة الطيران المدني. وستظل الدولة، بدعم وإسناد الأشقاء في تحالف دعم الشرعية بقيادة المملكة العربية السعودية، ماضية بثبات في حماية شعبنا ومؤسساته ومرافقه الحيوية، وإنهاء التهديد الحوثي، واستعادة الدولة وترسيخ الأمن والاستقرار في اليمن.
— معمر الإرياني (@ERYANIM) October 16, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ’روزانہ درجنوں پروازوں کو سنبھالنے والے ایک شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا نہ کوئی فوجی کامیابی ہے اور نہ ہی ایسی فتح جس پر فخر کیا جا سکے۔‘
الاریانی کے مطابق ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے سے ان یمنیوں کی سفری سہولت بھی متاثر ہوتی ہے جو علاج یا تعلیم کے لیے بیرون ملک سفر کرتے ہیں۔
انہوں نے یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ حکومت شہریوں اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ، حوثیوں کا مقابلہ کرنے اور ملک میں ریاستی عملداری بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔











