Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثی میزائل سازی کی ٹیکنالوجی کیسے اور کہاں سے حاصل کر رہے ہیں؟

ایران سے اسلحہ اور دیگر سامان عمان اور صومالیہ کے سمندری راستے سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے یمن سمگل کیا جاتا ہے (فوٹو: اے پی)
اسلحے کے پھیلاؤ کے حوالے سے دنیا کے سرکردہ ماہرین میں شامل ایک ماہر کے مطابق، سعودی عرب پر حملوں کے لیے حوثیوں کی جانب سے استعمال کیے جا رہے میزائلوں کی تیاری میں عالمی سپلائی چین کا کردار غیرمعمولی طور پر اہم ہے۔ سعودیٔ عرب کے دوست ممالک میں تیار ہونے والے اِن میزائلوں کے پرزے مختلف راستوں سے یمن پہنچتے ہیں۔
وولف کرسچین پیس سال 2018 سے سال 2023 تک یمن کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے پینل کے رکن رہے، وہ کہتے ہیں کہ اِن پرزوں کو قانونی طور پر چین سے برآمد کیا گیا، جہاں سے انہیں دوبارہ برآمد کرکے سمگلنگ کے ذریعے یمن پہنچایا گیا۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد نے جمعرات کو بتایا کہ اکتوبر کے آغاز سے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے 20 حملوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 330 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
وولف کرسچین پیس کے مطابق، ڈرونز اور میزائل حاصل کرنے کے لیے حوثیوں کا ایران پر انحصار کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس کی بجائے اپنے میزائل خود تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اور جن پرزوں کو وہ خود تیار نہیں کر سکتے، اِن میں سے زیادہ تر دنیا بھر سے پرزے برآمد کرنے والی تجارتی کمپنیوں کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’بین الاقوامی سطح پر برآمدی کنٹرول کے نظام میں موجود خامیوں کے باعث میزائلوں کے لیے ضروری پرزے حوثیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران میزائل سازی کے حوالے سے حوثیوں کی تکنیکی مہارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔‘
وولف کرسچین پیس نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’سال 2014 میں یمن میں خانہ جنگی شروع ہونے اور حوثیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد انہیں حکومت کا بہت سا فوجی سازوسامان ورثے میں ملا، جس میں بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے۔‘
اُن کے مطابق، سال 2017 تک یہ ذخائر تقریباً ختم ہو چکے تھے۔ اِس کے بعد تقریباً سال 2020 تک حوثیوں نے تقریباً مکمل طور پر انہی میزائلوں کا استعمال کیا جو ایران سے سمگل کرکے یمن لائے گئے تھے۔ بڑے میزائلوں کے پرزوں کو خفیہ طور پر سمگل کرنا مشکل تھا، اس لیے ان کے الگ الگ حصے بھیجے جاتے جنہیں بعدازاں یمن میں ویلڈنگ کے ذریعے جوڑ دیا جاتا تھا۔

وولف کرسچین پیس سال 2018 سے سال 2023 تک یمن کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے پینل کے رکن رہے ہیں (فوٹو: آئی آئی ایس ایس)

سال 2021 میں وولف کرسچین پیس اور اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کے دیگر ارکان نے سال 2020 میں ریاض پر حملے کے لیے استعمال ہونے والے ایک بیلسٹک میزائل کا ملبہ معائنے کے لیے دیکھا۔ اس میزائل کی شناخت ’برکان 2 ایچ‘کے طور پر ہوئی۔ یہ ایک ہزار کلومیٹر دور تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا تھا اور 250 کلوگرام وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ پینل کو میزائل کے جسم پر روایتی اور غیر صنعتی انداز میں کی گئی ویلڈنگ کے نشانات ملے، جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اِس کے مختلف حصوں کو یمن میں ویلڈ کیا گیا تھا۔
وولف کرسچین پیس نے کہا کہ ’حوثیوں نے مختلف مراحل سے گزر کر اپنی صلاحیتیں بڑھائی ہیں۔ پہلے انہوں نے مخصوص اقسام کے بیلسٹک میزائل خود تیار کرنا شروع کیے، اور اب نئی پیش رفت یہ ہے کہ وہ ایسے بیلسٹک میزائل بنا رہے ہیں جو دور تک مار کر سکتے ہیں اور جن میں ایرانی پرزوں کا استعمال بہت کم ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ اہم بات ہے، کیونکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کل ایران میں حکومت تبدیل ہو جائے یا تہران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ ہو جائے جس کے تحت وہ حوثیوں کو سامان فراہم کرنا بند کر دے، تو تب بھی حوثی یہ میزائل بنانا جاری رکھ سکیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ صلاحیت اب حوثیوں کی دسترس میں ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ لازماً میزائلوں کے انجن خود تیار نہیں کر سکتے، اور انہیں دیگر مشکلات کا بھی سامنا ہے، مثلاً ٹھوس راکٹ ایندھن کی تیاری۔ یہ ایک پیچیدہ کام ہے، لیکن ایسے اشارے بھی ملے ہیں کہ ممکن ہے وہ اپنی اِس صلاحیت میں بھی مہارت حاصل کر چکے ہوں۔‘
حوثیوں کی اسلحہ سازی کا ایک پہلو عام طور پر پوری طرح نہیں سمجھا جاتا، اور وہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے تیار کردہ پرزوں پر اِن کا انحصار ہے۔ اسلحے کی سپلائی چین پر نظر رکھنے والے ادارے کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نے رواں سال شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ایران سے یمن جانے والی ایک روایتی بادبانی کشتی سے قبضے میں لیے گئے میزائلوں اور ڈرونز کے پرزوں کا تجزیہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس کھیپ سے حاصل کیے گئے اور دستاویزی طور پر شناخت کیے گئے پرزوں میں سے صرف تقریباً پانچ فیصد ایران میں تیار ہوئے تھے۔
25 جون 2025 کو ’الشیروہ‘ نامی کشتی سے ملنے والے سینکڑوں پرزوں کا تعلق ’اسلحے کے کم از کم ایک درجن نظاموں، بشمول بیلسٹک میزائلوں‘ سے تھا۔ اِن پرزوں پر ایسی کمپنیوں کے نشانات موجود تھے جن کے مرکزی دفاتر کم از کم 16 ممالک یا خطوں میں واقع ہیں۔
وولف کرسچین پیس کے مطابق، یہ صورتِ حال سال 1996 میں قائم کیے گئے بین الاقوامی برآمدی کنٹرول کے نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ روایتی اسلحے اور دوہرے استعمال کی اشیا و ٹیکنالوجی کی برآمد پر کنٹرول سے متعلق معاہدے میں ہر ملک شریک نہیں۔ مثال کے طور پر چین اُن 42 ممالک میں شامل نہیں جو اس بندوبست کا حصہ ہیں۔
تاہم وولف کرسچین پیس نے کہا کہ ’برآمدات پر کنٹرول سے متعلق معاہدہ یہ تعین کرتا ہے کہ کون سی چیز فوجی ٹیکنالوجی شمار ہوگی اور کون سی نہیں۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک اِن فہرستوں کو نقل کرکے اپنے نظام میں شامل کر لیتے ہیں۔‘
مسئلہ یہ ہے کہ اِن فہرستوں میں ایسی بہت سی اشیا شامل نہیں جو بظاہر دوہرے استعمال کی حامل ہو سکتی ہیں اور جن کے پُرامن مقاصد بھی ہیں، لیکن اِن میں سے بعض میزائلوں کے لیے بھی نہایت اہم پرزے ہیں۔

حوثیوں کا ڈرونز اور میزائل حاصل کرنے کے لیے ایران پر انحصار کم ہو گیا ہے (فوٹو: روئٹرز)

وولف کرسچین پیس نے کہا کہ ’دوہرے استعمال کی اصطلاح اپنے اندر ایک مسئلہ رکھتی ہے۔ وہ میزائلوں کے پرزوں کا سراغ لگاتے ہوئے اِن کے اصل تیار کنندگان تک پہنچ چکے ہیں۔ اِن کمپنیوں سے جب یہ پوچھا گیا کہ اُن کی مصنوعات میزائلوں میں کیسے استعمال ہونے لگی ہیں تو اکثر کا جواب یہ تھا کہ ’یہ تو ایسی چیز ہی نہیں جس کی برآمد پر پابندی ہو۔‘
حوثیوں کے زیر استعمال ڈرونز اور میزائلوں میں نصب دوہرے استعمال کی کسی شے کی ایک نمایاں مثال رہنمائی کا نظام ہے۔ یہ ٹیکنالوجی 1950 کی دہائی میں تیار ہوئی تھی اور اب دنیا بھر میں کئی کمپنیاں اسے بناتی ہیں۔
جی پی ایس کے برعکس خودکار اندرونی نیویگیشن نظام بیرونی ریڈیو سگنلز پر انحصار نہیں کرتے۔ اس کی بجائے یہ جائروسکوپس اور ایکسیلرومیٹرز استعمال کرتے ہیں، جو میزائل کی حرکت کا سراغ لگاتے  اور اس کی رہنمائی کے نظام کو ضروری معلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہی نظام بحری جہاز رانی اور تجارتی ہوا بازی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ تجارتی طور پر دستیاب بعض اندرونی نیویگیشن پرزے برآمدی کنٹرول کی مخصوص حدود میں نہیں آتے، تاہم دیگر نظاموں پر برآمدی پابندیاں لاگو ہوتی ہیں۔
فوجی استعمال کے لیے اندرونی نیویگیشن نظام تیار کرنے والی فرانس کی ایک کمپنی میزائلوں کی رہنمائی، بغیر پائلٹ فضائی نظاموں، بحری جہازوں کے استحکام اور زمینی گاڑیوں کی نیویگیشن سمیت مختلف شعبوں کے لیے مصنوعات بناتی ہے۔
امریکہ کے اسلحے کی بین الاقوامی تجارت کے ضوابط (آئی ٹی اے آر) کے دائرے سے باہر آنے والی ایک کمپنی اپنی ویب سائٹ پر اپنی مصنوعات کے بارے میں کہتی ہے کہ ’اندرونی نیویگیشن نظام امریکی برآمدی پابندیوں کے تابع نہیں، جس سے کمپنیوں کو پیچیدہ برآمدی لائسنس یا تعمیلی طریقۂ کار کی ضرورت کے بغیر بین الاقوامی منڈیوں میں یہ نظام فروخت کرنے اور استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہو جاتی ہے۔‘
ایسے نظام میزائلوں کو ہوائی اڈوں یا تیل کی تنصیبات جیسے مستقل اہداف کی جانب راستہ متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
وولف کرسچین پیس نے کہا کہ حالیہ خبروں میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ حوثی اپنے میزائلوں کے لیے چینی پرزوں پر انحصار کرتے ہیں، لیکن یہ بات مکمل طور پر درست نہیں۔

حوثی اب دور تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل خود بنا رہے ہیں اور ان میں ایرانی پرزوں کا استعمال بھی بہت کم کیا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ’یہ درست ہے کہ وہ اب اپنی ضرورت کی تقریباً ہر چیز چین سے درآمد کر رہے ہیں۔ دریائے پرل کے ڈیلٹا کے علاقے میں خریداری کا ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے۔ خریداری کے ایجنٹ، جو ابتدا میں ایران کی طرف سے کام کرتے تھے اور اب حوثیوں کی نمائندگی بھی بڑھتی جا رہی ہے، گوانگ ژو اور ہانگ کانگ میں مقیم ہیں۔ یہ دونوں عالمی تجارت اور صنعت کے بڑے مراکز ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ پرزے اگرچہ چین میں تیار ہوتے ہیں، لیکن بہت سے پرزے یورپ میں تیار کیے جاتے ہیں، چین درآمد ہوتے ہیں اور پھر وہاں سے دوبارہ برآمد کیے جاتے ہیں۔‘
وولف کرسچین پیس کے مطابق، ’میں نے ان اسلحہ نظاموں میں خاص طور پر جرمنی میں تیار کیے گئے بعض پرزوں کا سراغ لگایا ہے، اور بہت کم مواقع پر ایسا ہوا کہ وہ چین کے راستے نہ پہنچے ہوں۔‘
حوثیوں کی مقامی پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ انہیں ایران سے سپلائی کے نیٹ ورک بھی ورثے میں ملے ہیں، اور ان کے پاس مطلوبہ پرزے یمن پہنچانے کے کئی طریقے موجود ہیں۔
سال 2021 میں یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کے ساتھ اپنے کام کے دوران وولف کرسچین پیس نے سلامتی کونسل کے لیے ایک رپورٹ کی مشترکہ تیاری میں حصہ لیا۔ اس رپورٹ میں سپلائی کے کئی ایسے راستوں کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں روایتی بادبانی کشتیاں استعمال ہوتی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران سے بھیجا جانے والا اسلحہ اور دیگر سامان ’عمان اور صومالیہ کے سمندری پانیوں میں چھوٹی کشتیوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ وہاں سے یہ سامان یمن کے جنوبی ساحل پر واقع بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا ہے اور خشکی کے راستے سمگل کرکے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں لے جایا جاتا ہے، یا بعض صورتوں میں باب المندب کے راستے براہِ راست حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’متعلقہ علاقوں میں روک تھام کی صلاحیت کی کمی اور بدعنوانی کا پھیلاؤ ایسے عوامل ہیں جو بڑے پیمانے پر سمگل ہونے والے سامان کو ضبط کیے جانے کے باوجود سمگلنگ کو فروغ دیتے ہیں۔‘

حوثیوں نے مختلف مراحل سے گزر کر اسلحہ سازی کی اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے (فوٹو: روئٹرز)

اس نوعیت کی ایک کارروائی 11 جنوری 2024 کی رات ہوئی، جب امریکی فوج نے بحیرۂ عرب میں صومالیہ کے ساحل کے قریب ’یونس‘ نامی ایک ایسی بادبانی کشتی کے خلاف کارروائی کی جس پر کسی ملک کا پرچم نہیں تھا۔
امریکی اہلکاروں نے ایران میں تیار کردہ اسلحہ قبضے میں لیا، جس میں بیلسٹک میزائلوں کے پرزے، بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے کروز میزائلوں کے پرزے اور ایک وارہیڈ شامل تھا۔ اس کارروائی کے دوران امریکی بحریہ کے دو سیل اہلکار ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔
جون 2025 میں ایک امریکی عدالت نے یونس کے کپتان کو حوثیوں کے لیے اسلحہ سمگل کرنے سے متعلق الزامات پر مجرم قرار دیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ محمد پہلوان اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کے کئی سفر کر چکے تھے اور انہیں اسلامی انقلابی گارڈ کور سے وابستہ دو ایرانی شہریوں نے معاوضہ دیا تھا۔ آخری سفر کے لیے انہیں تقریباً 30 ہزار ڈالر ادا کیے گئے تھے۔
مختلف اوقات میں سمگلنگ کے مختلف راستے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔
وولف کرسچین پیس نے کہا کہ ’اپریل 2022 میں سعودی عرب کے ساتھ جنگ بندی اور نومبر 2023 کے درمیان ایک ایسا عرصہ تھا جس کے دوران صورت حال پر نظر نہیں رکھی جا رہی تھی۔ نومبر 2023 میں حوثیوں نے اسرائیل اور اس کے بعد بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر حملے شروع کیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’تقریباً ڈیڑھ سال کے اس عرصے میں لوگ اس معاملے پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس دوران بڑے جہاز بندر عباس سے حدیدہ اور الصلیف کی بندرگاہوں تک سفر کر رہے تھے۔ بندر عباس آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ایرانی بندرگاہ ہے۔ اِن جہازوں میں کیا کچھ لے جایا جا رہا تھا، اِس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔‘

گزشتہ ایک دہائی کے دوران میزائل سازی کے حوالے سے حوثیوں کی تکنیکی مہارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے (فوٹو: روئٹرز)

وولف کرسچین پیس نے مزید کہا کہ کچھ سامان بلاشبہ خلیج کے ایک ہمسایہ ملک کی بندرگاہوں تک بھی پہنچایا گیا، جہاں سے اسے دو سرحدی گزرگاہوں میں سے کسی ایک کے ذریعے یمن سمگل کیا گیا۔ وہ اِن دونوں گزرگاہوں کا دورہ کر چکے ہیں۔ یمن کی جانب یہ گزرگاہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔
اِن گزرگاہوں سے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں تک پہنچنے کے لیے صحرا کے راستے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا زمینی سفر کرنا پڑتا ہے۔ وولف کرسچین پیس کے مطابق، اِس کے باوجود دوہرے استعمال کی بہت سی ٹیکنالوجی اِن سرحدی گزرگاہوں سے گزرتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’کبھی کبھار سامان پکڑا بھی گیا، اور ہمیں اِسی طرح اِس کی موجودگی کا پتا چلتا ہے۔ لیکن سمندر میں ہونے والی ضبطیوں کی طرح، ممکنہ طور پر ہمیں بھی صرف مسئلے کا ایک معمولی حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ بدعنوانی ہے۔‘
اُن کے مطابق، سرحدی گزرگاہوں پر نگرانی کا نظام مناسب طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔ وہاں گاڑیوں کی جانچ کے لیے سکینرز اور دستی تلاشی کا انتظام موجود ہے، لیکن آمدورفت اتنی زیادہ ہے کہ ہر گاڑی کی تلاشی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اس نظام کو اگر درست طریقے سے نافذ کیا جائے تو کوئی غیرقانونی سامان سرحد پار نہیں آ سکتا۔‘
چین کی وزارتِ تجارت نے شہری ہوا بازی کے شعبے میں برآمدی طریقۂ کار آسان بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے تحت ’اہل قرار پانے والی کمپنیوں کو ہر برآمد کے لیے الگ درخواست دینے کی بجائے رجسٹریشن کے ذریعے برآمدی سرٹفیکیٹ حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔‘
وزارت کے ایک بیان کے مطابق، اس اقدام کا مقصد ’قواعد و ضوابط کے مطابق اِن اشیا کی برآمد آسان بناتے ہوئے ترقی اور سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنا‘ ہے۔

حوثی اپنا اسلحہ تیار کرنے کے لیے دنیا بھر کی کمپنیوں کے تیار کردہ پرزوں پر انحصار کرتے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

مجوزہ اقدامات کے تحت شہری ہوا بازی کے شعبے کی اہل کمپنیوں کو مرمت اور دیکھ بھال جیسے مقاصد کے لیے اندرونی نیویگیشن نظام سمیت بعض اشیا برآمد کرنے پر ہر کھیپ کے لیے الگ برآمدی لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
وولف کرسچین پیس نے کہا کہ ممکن ہے چین دانستہ طور پر میزائلوں کے پرزے حوثیوں تک پہنچنے کی اجازت نہ دے رہا ہو۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اِس مسئلے پر بیجنگ کے ساتھ فوری رابطہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں یہ معاملہ چینی حکومت کے لیے مسئلہ نہیں تھا، لیکن اب صورتِ حال بدل گئی ہے۔ موجودہ تنازع کے باعث اِس کی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے اور اس تنازع میں ایران اور حوثی دونوں شامل ہیں۔ ایسے میں برآمدی کنٹرول کا زیادہ مؤثر نظام قائم کرنا ہمارے علاوہ چین کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔‘

شیئر: