’مجھے لگا کہ شاید میں زندہ نہیں بچ سکوں گا‘، حوثی حملے میں زخمی ہونے والے بنگلہ دیشی شہری
’مجھے لگا کہ شاید میں زندہ نہیں بچ سکوں گا‘، حوثی حملے میں زخمی ہونے والے بنگلہ دیشی شہری
جمعہ 16 اکتوبر 2026 18:11
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں زخمی ہونے والوں کا سعودی ہسپتالوں میں بہترین علاج کیا جا رہا ہے (فوٹو: سعودی گزٹ)
ابوالمنصور ریاض گزشتہ ہفتے سنیچر کے روز ریاض ایئرپورٹ پر بورڈنگ پاس حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑے تھے کہ اِس دوران حوثیوں کے حملے میں ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
دھماکے کے چند لمحوں بعد 38 سالہ بنگلہ دیشی شہری کو یہ محسوس ہوا کہ شاید اُن کی زندگی کے آخری لمحات آ پہنچے ہیں۔ اُس وقت انہوں نے اپنے وطن میں موجود اپنے اہلِ خانہ کے چہروں کو ذہن میں تازہ کرنے کی کوشش کی۔ اِن میں اُن کی تین سالہ بیٹی، ضعیف والدہ، اہلیہ اور مرحوم والد شامل تھے۔
ابو المنصور ریاض نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’چند ہی سیکنڈ میں ماضی کی بہت سی یادیں میرے ذہن میں گردش کرنے لگیں۔ مجھے لگا کہ شاید میں زندہ نہیں بچ سکوں گا اور یہ اپنے سب سے پیارے اہلِ خانہ کے چہرے یاد کرنے کا میرا آخری موقع ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ وہ 37 سالہ نصراللہ بدر کے پیچھے کھڑے تھے، جو امام مسجد اور اُستاد تھے۔ نصراللہ بدر اُن 13 افراد میں شامل تھے جو میزائل حملے میں ہلاک ہوئے۔ جان سے جانے والوں میں دو بنگلہ دیشی شہری بھی شامل تھے۔
ابوالمنصور ریاض نے کہا کہ ’میرا زندہ بچنا ممکن نہیں لگ رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری جان بچ گئی اور میں اب بھی سانس لے رہا ہوں۔ ‘
اس حملے میں 300 سے زیادہ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں بنگلہ دیش کے 24 شہری شامل ہیں۔ ریاض میں بنگلہ دیشی سفارت خانے کے مطابق، ان زخمیوں میں 11 تارکینِ وطن مزدور اور عمرے کی ادائیگی کے لیے آنے والے 13 زائرین شامل ہیں، جو اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
ابوالمنصور ریاض خود بھی ٹانگوں، کمر اور سر پر زخم آنے کے باعث زیرِ علاج ہیں۔ ریاض کے ایک ہسپتال میں اُن کے متعدد آپریشن کیے جا چکے ہیں اور اُن کا علاج جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہسپتال میں سعودی ڈاکٹر اور نرسیں انتہائی دوستانہ رویہ رکھتی ہیں اور بھرپور تعاون کر رہی ہیں۔ وہ میرے ساتھ اپنے قریبی اہلِ خانہ جیسا سلوک کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر بھی میری دیکھ بھال کر رہے ہیں اور وہ کام بھی انجام دے رہے ہیں جو عام طور پر نرسوں کے ذمے ہوتے ہیں۔‘
ہسپتال میں عملے کے طور پر کام کرنے والے بنگلہ دیشی شہری بھی اُن کی مدد کر رہے ہیں۔
ابوالمنصور ریاض نے مزید کہا کہ ’میں چوں کہ یہاں اکیلا ہوں اور میری دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں، اس لیے ہسپتال میں کام کرنے والے میرے تمام بنگلہ دیشی ساتھی اہل خانہ کی طرح میرا خیال رکھ رہے ہیں۔ ‘
سعودی عرب میں بنگلہ دیش کے سفیر دلور حسین نے بدھ کے روز ابوالمنور ریاض کی عیادت کی اور انہیں یقین دلایا کہ سعودی حکام بھی اُن کی مدد کر رہے ہیں۔ سفیر نے وعدہ کیا کہ اُن کی مکمل صحت یابی تک سعودی ہسپتالوں میں انہیں بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
ابوالمنصور ریاض نے کہا کہ ‘میں یہ جان کر بہت مطمئن ہے کہ سعودی ہسپتال میں میرا بہترین علاج کیا جا رہا ہے۔‘
ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں زخمی ہونے والے بنگالی شہریوں میں 11 تارکینِ وطن مزدور اور 13 زائرین شامل ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
بنگلہ دیش کے شہر کومیلا سے تعلق رکھنے والے عمرہ زائر داؤد بن محب بھی ریاض کے کنگ فہد ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ وہ حملے کے دوران زخمی ہوئے تھے اور جھلس بھی گئے تھے۔
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اُس وقت جو کچھ ہوا، وہ واقعی انتہائی خوف ناک تھا۔ اُس صورتِ حال کو یاد کرنے سے آج بھی بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اب میری طبیعت بہتر ہے، اللہ کا شکر ہے۔ یہاں علاج بہت اچھا ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں نے ہمارے لیے دعائیں کیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب میں ٹھیک ہوں۔‘
دائود بن محب کے مطابق، بنگلہ دیش کے کم از کم تین دیگر شہری اب بھی انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ ایک زخمی کی حالت تشویش ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’باقی افراد کی حالت بھی اب اللہ کے فضل سے پہلے سے بہت بہتر ہے۔ یہاں اُن کا بہت خیال رکھا جا رہا ہے اور انہیں بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ ‘