Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا حوثی ملیشیا کی شکست کا وقت قریب آ گیا ہے؟

حوثی تحریک کی ترقی کا راستہ حزب اللہ کے ارتقا سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
یمن کے شمال مغربی علاقوں میں، جہاں حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے، اس ہفتے میزائل حملوں اور فضائی کارروائیوں میں نمایاں شدت آئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمنی دارالحکومت صنعا کے رہائشیوں کو تیل کی دو اہم تنصیبات سے دور رہنے کی ہدایت دینے کے بعد فضائی حملوں کی یکے بعد دیگرے کئی لہریں شروع کیں۔ دوسری جانب یمنی حکومت کی فوج اور اس کی اتحادی فورسز تعز اور مآرب سمیت متعدد محاذوں پر حوثی جنگجوؤں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
گزشتہ برسوں میں مسلسل جنگوں اور لڑائیوں کے باوجود حوثی ملیشیا کمزور ہونے کے بجائے ہر نئے معرکے کے بعد زیادہ منظم، متحد، نظم و ضبط کی پابند اور عسکری اعتبار سے مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے۔ اس دوران اس کے پاس ہتھیاروں، فوجی سازوسامان اور گولہ بارود کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
حوثیوں کی فوجی تیاریوں کے حجم کا اندازہ ان ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان سے لگایا جا سکتا ہے جنہیں یمنی حکومت کی فورسز مختلف مواقع پر ضبط کرتی رہی ہیں۔ بعض کھیپیں خلیجِ عدن کے ساحلی راستوں اور المہرہ، حضرموت، مآرب اور الجوف کے صحرائی علاقوں سے سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئیں۔ دیگر کھیپیں سمندری راستے سے بحیرۂ احمر کے ساحل پر حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی جانب بھیجی جا رہی تھیں، جنہیں یمن کے گرد سمندری حدود میں سرگرم بین الاقوامی بحری افواج کے تعاون سے روک لیا گیا۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران حوثیوں نے یمن کے اندر جدید درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا ایک بڑا ذخیرہ تیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار بھی موجود ہیں۔
ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور لبنان کی حزب اللہ نے حوثی تحریک کی تنظیمی، عسکری اور ذرائع ابلاغ سے متعلق صلاحیتوں کی تشکیل اور مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس معاونت نے حوثیوں کو ایران کے نام نہاد ’محورِ مزاحمت‘ کی مؤثر ترین جنگجو قوتوں میں سے ایک بنا دیا ہے۔ یہ گروہ اب پیچیدہ جنگی مشن اور فوجی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے، جنہیں ماضی میں لبنان کی حزب اللہ سے منسوب کیا جاتا تھا، خصوصاً اس کی فوجی قوت کو پہنچنے والے نقصانات سے پہلے۔
درحقیقت، حوثی تحریک کی ترقی کا راستہ حزب اللہ کے ارتقا سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ تاہم یمن کے اس باغی گروہ کو بعض ایسے فوائد حاصل ہیں جو حزب اللہ کے پاس نہیں۔ ان میں زیرِ کنٹرول علاقے کا وسیع رقبہ، ساحلی پٹی پر موجودگی اور وہاں آباد آبادی کا حجم شامل ہیں۔ اس صورت حال سے حوثیوں کو افرادی قوت کا ایک وسیع ذخیرہ میسر آتا ہے، جہاں سے وہ دسیوں ہزار جنگجو بھرتی کر سکتے ہیں۔
بھرتی کے بعد ان جنگجوؤں کی سخت نظریاتی تربیت کی جاتی ہے، جس کے ذریعے ان کے ذہنوں میں فرقہ وارانہ اور علاقائی دشمنی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ پڑوسی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے۔
عسکری اور سکیورٹی امور کے ماہر معروف یمنی صحافی اور محقق عدنان الجبرنی اس گروہ کو ’ایک خفیہ اور بند جہادی فوجی تنظیم قرار دیتے ہیں، جس کی ساخت بھی خفیہ ہے اور کام کرنے کا طریقۂ کار بھی۔‘
ان کے مطابق، حوثی عوام کی سیاسی عمل میں شرکت پر یقین نہیں رکھتے بلکہ سیاست کو ’اپنے اثر و رسوخ میں توسیع اور تنازعات کے لیے ایک پردے‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران حوثیوں نے یمن کے اندر جدید درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا ایک بڑا ذخیرہ تیار کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کا خاتمہ کیوں اہم سمجھا جا رہا ہے؟
بہت سے ممالک کے لیے حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنا اب ایک فوری ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گروہ کی تباہ کن کارروائیاں صرف یمن تک محدود نہیں رہیں بلکہ دنیا کے حساس ترین خطوں میں شمار ہونے والے اس علاقے کے دیگر ممالک کے لیے بھی بڑھتا ہوا خطرہ بن رہی ہیں۔
اس مؤقف کے حامیوں کے مطابق، اگر حوثیوں کی کارروائیوں کا مؤثر جواب نہ دیا گیا تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کا دباؤ ڈالنے کا اختیار مزید بڑھ سکتا ہے۔ وہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عالمی معیشت کو دباؤ میں لانے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
میدانِ جنگ میں حوثی تعز کے دیہی علاقوں میں نئی پوزیشنیں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہاں ان کی پیش قدمی چند ایسے زرعی دیہات تک محدود رہی ہے جن کی تزویراتی اہمیت زیادہ نہیں۔
یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب یمنی حکومتی فورسز نے ضلع الوازعیہ کے مغربی حصوں اور کوہِ کہبوب پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور آبنائے باب المندب کی جانب پیش قدمی شروع کی۔
اگر حکومتی فورسز کی یہ پیش قدمی جاری رہی تو حوثیوں کو ان متعدد مقامات سے بھی دست بردار ہونا پڑ سکتا ہے جن پر انہوں نے ماضی میں قبضہ کیا تھا۔
اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں توسیع کے بعد حوثی ملیشیا کو مختلف محاذوں پر اپنی فوجی قوت پھیلانا پڑ رہی ہے، جس سے اس کی افرادی اور عسکری صلاحیتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ یہ صورت حال یمنی حکومت کی فورسز کے لیے مزید دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
حوثیوں کو بیک وقت متعدد محاذوں پر دفاع پر مجبور کر کے حکومتی فورسز بتدریج ان کے وسائل کم اور جنگجوؤں کو تھکا سکتی ہیں۔
حوثی پہلے ہی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے شدید فضائی حملوں میں جنگجوؤں اور فوجی سازوسامان کا بھاری نقصان اٹھا چکے ہیں۔ جب انہیں فضائی حملوں سے بچنے کے لیے پناہ لینا پڑتی ہے تو وہ غاروں، سرنگوں اور خندقوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس ناہموار اور ان کے لیے غیر مانوس علاقے میں انہیں اچانک حملوں اور گھات لگانے کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر حوثیوں کی کارروائیوں کا مؤثر جواب نہ دیا گیا تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کا دباؤ ڈالنے کا اختیار مزید بڑھ سکتا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)

فوجی دباؤ کے جواب میں شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام
حوثیوں پر الزام ہے کہ بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے جواب میں وہ عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رہے ہیں۔
تعز کے دیہی علاقوں میں اس صورت حال کا اظہار شہریوں کے خلاف دانستہ تشدد، ظلم و ستم اور انہیں بھوکا رکھنے کی کارروائیوں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
یمن سے باہر بھی حوثیوں نے سعودی عرب کے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں سعودی عرب کے متعدد ہوائی اڈوں پر حملے اس کی مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔
 حوثیوں کو شکست دینا مشکل، لیکن ناممکن نہیں
حوثی ملیشیا کو شکست دینا ناممکن نہیں، تاہم اب یہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ متعدد مبصرین کو خدشہ ہے کہ اگر یمن کے اس باغی گروہ کے خلاف بروقت مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں اسے شکست دینا مزید دشوار ہو جائے گا۔
اس کے باوجود حوثی تحریک کے اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ اس کی الگ تھلگ رہنے کی پالیسی اور بند تنظیمی ساخت کو اس کی ممکنہ کمزوریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بیرونی اور اندرونی دباؤ کو ایک مربوط فوجی مہم کے ساتھ ملا کر حوثی تحریک کو بالآخر شکست دی جا سکتی ہے۔
تاہم اس مقصد کے حصول کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں، ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں، افرادی قوت اور بیرونی معاونت سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا کس حد تک مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاتا ہے۔
یہ مضمون پہلی بار  المجلہ میں شائع ہوا تھا۔

شیئر: