یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے نئی عسکری کارروائیوں کے آغاز نے ملک کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے مستقبل کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط جنگ، تباہی اور نوادرات کی لوٹ مار پہلے ہی یمن کے تاریخی ورثے کو شدید نقصان پہنچا چکی ہے جب کہ تازہ لڑائی کے نتیجے میں آثارِ قدیمہ کے مقامات اور عجائب گھروں میں محفوظ تاریخی اشیا کو پہنچنے والے نقصان کا ابھی مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔
تاہم برسوں کے تنازعے، سرکاری اداروں کی کمزوری اور اختیارات کی تقسیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں قدیم نوادرات چوری کیے جا سکتے ہیں، سرحدوں کے پار سمگل ہو سکتے ہیں اور بین الاقوامی خریداروں کو فروخت کیے جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
یمن کے حوثی: مذہبی احیا کی تحریک علاقائی خطرہ کیسے بنی؟Node ID: 909445
-
حوثی میزائل سازی کی ٹیکنالوجی کیسے اور کہاں سے حاصل کر رہے ہیں؟Node ID: 909483
صنعا میں قائم یمن کی وزارتِ ثقافت کے شعبۂ ثقافتی شماریات کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی ثامر کے اندازے کے مطابق، یمن کے آثارِ قدیمہ کے اٹلس میں 2014 میں درج کیے گئے 23 سو سے زائد تاریخی مقامات میں سے تقریباً 477 جنگ کے دوران مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
یمن کے آزاد تحقیقی ادارے ’صنعا سینٹر‘ کے لیے کی گئی محمد علی ثامر کی تحقیق میں وزارت کے ریکارڈ، شماریاتی اعداد و شمار اور ’یمن ڈیٹا پراجیکٹ‘ سے حاصل معلومات کی بنیاد پر 2014 سے 2025 کے درمیان ثقافتی ورثے کے مقامات کو نقصان پہنچانے والی 775 کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یمن میں خانہ جنگی کا آغاز 2014 میں ہوا تھا۔
نوادرات کی غیر قانونی تجارت کے حجم کا اندازہ لگانا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ چوری شدہ تاریخی اشیا کے بارے میں ملک گیر سطح پر جامع اعداد و شمار دستیاب نہیں، جس کے باعث یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ کتنی اشیا غائب ہو چکی ہیں، ان کا تعلق کن مقامات سے تھا اور ان کی فروخت سے بالآخر کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
یمن کے قدیم نوادرات صدیوں سے غیر ملکی جمع کنندگان کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور ان اشیا کی بیرونِ ملک منتقلی کا تعلق ملک کی نوآبادیاتی تاریخ سے بھی رہا ہے۔ تاہم موجودہ دور میں یہ مسئلہ نوآبادیاتی زمانے میں حاصل کی گئی متنازع تاریخی اشیا تک محدود نہیں رہا۔
محمد علی ثامر کی تحقیق کے مطابق موجودہ جنگ کے دوران نوادرات کی لوٹ مار کی ایک نئی لہر سامنے آئی ہے، بالخصوص مآرب، الجوف اور شبوا میں، جہاں سونے اور فروخت کے قابل قدیم اشیا کی تلاش میں قدیم قبروں اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

ان کی تحقیق میں شامل اندازوں کے مطابق، یمن سے تعلق رکھنے والی 10 ہزار سے 14 ہزار کے درمیان قدیم اشیا بیرونِ ملک موجود ہیں، جب کہ یمن کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے حکام نے 8 ہزار ایسی اشیا کی فہرست مرتب کی ہے جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہیں جنگ کے دوران ملک سے سمگل کیا گیا۔
عدن میں قائم ’عناوین سینٹر فار ریسرچ اینڈ ٹرانسفارمیشن سٹڈیز‘ کے صدر صالح البیضانی کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کی کمزوری نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں نوادرات کی غیر قانونی تجارت کو فروغ حاصل ہوا ہے۔
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگ نے ریاستی اداروں کو کمزور کیا، اختیارات کو منتشر کیا، آثارِ قدیمہ کے مقامات اور عجائب گھروں کے تحفظ کو محدود کیا اور ایسے حالات پیدا کیے جن میں لوٹ مار اور غیر قانونی تجارت پنپ سکتی ہے۔‘
ان کے بقول، غیر قانونی تجارت عموماً کسی ایک فرد یا تنظیم کی کارروائی نہیں ہوتی۔ یہ اکثر آثارِ قدیمہ کے مقامات، عجائب گھروں یا ذخیرہ گاہوں میں غیر قانونی کھدائی یا چوری سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے بعد نوادرات مقامی واسطہ کاروں کے ہاتھوں سے گزرتے ہوئے سرحد پار سمگلنگ کے نیٹ ورکس تک پہنچتے ہیں اور بالآخر بیرونِ ملک تاجروں، نیلام گھرانوں، نجی ذخیرہ کنندگان یا دیگر خریداروں کو فروخت کر دیے جاتے ہیں۔
صالح البیضانی نے مزید کہا کہ ان نیٹ ورکس کو بدعنوانی، سیاسی اثر و رسوخ یا جنگی معیشت میں سرگرم مسلح گروہوں کی سرپرستی سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

حوثیوں کے زیرِ کنٹرول تاریخی مقامات کو خطرات
حوثی ملیشیا یمن کے کئی اہم آثارِ قدیمہ اور تاریخی مقامات پر قابض ہے۔ ان میں صنعا کا قدیم شہر، تاریخی قصبہ زبید اور مآرب میں قدیم مملکتِ سبا سے وابستہ مقامات شامل ہیں۔ حضرموت میں فصیل بند شہر شبام بھی یمن کے ان تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے جنہیں بین الاقوامی سطح پر ثقافتی ورثے کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔
صالح البیضانی کو خدشہ ہے کہ نئی لڑائی ملک کے مزید تاریخی مقامات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس صورت حال پر شدید تشویش ہے۔ یمن جنگ کے دوران اپنا بہت سا تاریخی ورثہ پہلے ہی کھو چکا ہے اور لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرنے سے مزید تاریخی مقامات تباہی، لوٹ مار اور سمگلنگ کا نشانہ بن سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق، خطرہ صرف جنگ کے براہِ راست اثرات تک محدود نہیں بلکہ حوثی تحریک کے اندر یمن کی قبل از اسلام تاریخ کے حوالے سے پائے جانے والے نظریاتی رجحانات بھی تشویش کا باعث ہیں۔
صالح البیضانی نے تحریک کے بانی حسین الحوثی کے شائع شدہ خطبات کا حوالہ دیا، جن میں انہوں نے یمنیوں کی جانب سے اپنی سبائی اور حمیری تاریخ کا جشن منانے پر تنقید کی تھی۔
صالح البیضانی کے مطابق، حسین الحوثی نے مآرب کی قدیم یادگاروں کو محض ستونوں کی باقیات قرار دیا تھا اور قبل از اسلام تہذیبوں کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو یمنیوں کو ان کے اسلام سے پہلے کے ماضی کی طرف واپس لے جانے کی کوشش سے تعبیر کیا تھا۔
صالح البیضانی نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس سے تحریک کی نظریاتی بنیادوں کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوتا ہے۔ ہمارا سامنا ایسے گروہ سے ہے جس کے بانی نے یمن کی تاریخی شناخت کے ایک اہم حصے کو قابلِ فخر ورثہ سمجھنے کے بجائے مسترد کیے جانے کے قابل قرار دیا۔

’میری نظر میں اس وجہ سے ہمارے تاریخی ورثے کو لاحق خطرہ عام جنگی تباہی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔‘
ستمبر میں یونیسکو میں یمن کے مستقل مندوب محمد جمعہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ جنگ کے اثرات کے باعث ملک کے ثقافتی ورثے کے مقامات خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق، جنگ نے ملک بھر میں تاریخی اور ثقافتی یادگاروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے سینکڑوں دیگر مقامات بھی خطرات کی زد میں ہیں، جن میں نوادرات کی لوٹ مار ایک اہم مسئلہ ہے۔
محمد علی ثامر کی تحقیق میں حوثیوں کی جانب سے آثارِ قدیمہ کے مقامات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے واقعات بھی درج ہیں۔ ان میں قدیم شہر براقش بھی شامل ہے، جس پر ملیشیا نے اگست 2014 میں قبضہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اپریل 2016 کے اوائل میں وہاں سے انخلا سے قبل حوثی فورسز نے شہر کے نواحی علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں۔
نوادرات کی سمگلنگ کے ذریعے مالی معاونت کا خدشہ
صالح البیضانی نے نوادرات کی غیر قانونی تجارت کے ذریعے مالی وسائل فراہم کیے جانے کے خدشات کی جانب بھی توجہ دلائی۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک پینل کی 2024 کی رپورٹ میں ایسی اطلاعات کی تحقیقات کا ذکر کیا گیا تھا جن کے مطابق حوثیوں کی مبینہ سرپرستی میں ایک منظم سمگلنگ نیٹ ورک کام کر رہا تھا، جس کے ذریعے تاریخی نوادرات بیرونِ ملک فروخت کیے جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’اس لیے تشویش صرف ان واقعات کے بارے میں نہیں جو مستقبل میں پیش آ سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ لڑائی میں مزید شدت آنے سے یمن کے قدیم نوادرات بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ تعداد میں پہنچ سکتے ہیں، اگرچہ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض اشیا کئی برس تک چھپی رہیں اور اس کے بعد نیلام گھرانوں یا نجی ذخیرہ کنندگان تک پہنچیں۔‘

عجائب گھروں کی تباہی اور تاریخی اشیا کا غائب ہونا
یمن کے عجائب گھر بھی جنگ کے دوران شدید نقصان اٹھا چکے ہیں۔ محمد علی ثامر کے مطابق، ملک کے 22 عجائب گھروں میں سے 12 کو لوٹ مار یا تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
ذمار کا علاقائی عجائب گھر جس میں تقریباً 12 ہزار پانچ سع تاریخی اشیا محفوظ تھیں تباہ ہو گیا۔
عدن، تعز، المکلا اور عتق کے عجائب گھر بھی لڑائی اور لوٹ مار سے متاثر ہوئے، جب کہ صوبۂ اِب میں العود، المشناہ، ظفار اور جبلا کے عجائب گھروں کو تقریباً مکمل طور پر لوٹ لیا گیا۔ صنعا کے فوجی عجائب گھر میں محفوظ مجموعے کا بڑا حصہ بھی ضبط کر لیا گیا۔
ان نقصانات نے تاریخی اشیا کو غیر قانونی منڈیوں تک پہنچانے کے امکانات بڑھا دیے ہیں، جب کہ حکام کے لیے یہ معلوم کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ اصل میں کون سی اشیا غائب ہیں۔ ایک بار جب نوادرات متعدد واسطہ کاروں کے ہاتھوں سے گزر جاتے ہیں تو ان کی ملکیت کا نامکمل ریکارڈ اس بات کا تعین مشکل بنا دیتا ہے کہ وہ کب اور کن حالات میں یمن سے باہر منتقل ہوئے۔
امریکہ میں ضبط کی جانے والی یمن کی 77 قدیم اشیا کا معاملہ اس بات کی مثال ہے کہ جنگ کے دوران ثقافتی ورثے کی واپسی کس قدر پیچیدہ عمل بن جاتی ہے۔
2023 میں امریکی محکمہ خارجہ اور یمن کے سفارت خانے نے واشنگٹن میں قائم سمتھسونین کے نیشنل میوزیم آف ایشین آرٹ سے درخواست کی کہ وہ ان اشیا کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھال لے۔
میوزیم کے ڈائریکٹر چیس رابنسن نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’یہ اشیا امریکی حکومت کی تحویل میں تھیں۔ سوال یہ تھا کہ یمن کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں واپس کیسے بھیجا جائے۔ یمن کے سفیر اور امریکی محکمہ خارجہ نے ہم سے پوچھا کہ کیا ہم ان اشیا کی دیکھ بھال پر آمادہ ہوں گے۔‘

یہ نوادرات باضابطہ طور پر یمنی حکومت کو واپس کر دیے گئے، تاہم ایک معاہدے کے تحت اب بھی میوزیم ہی میں محفوظ ہیں۔ اس انتظام کے تحت ان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکتی ہے اور ان میں سے بعض کو نمائش کے لیے بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس مجموعے میں شمال مغربی یمن سے تعلق رکھنے والی 65 تدفینی کتبے نما تختیاں شامل ہیں، جن کا تعلق قبلِ مسیح کی پہلی ہزار سالہ صدی کے دوسرے نصف سے ہے۔ اس کے علاوہ نویں صدی میں نقل کیے گئے قرآن کے ایک نسخے کے 11 صفحات بھی اس مجموعے کا حصہ ہیں۔
قرآنی صفحات کو تصویر کے ایک فریم کے پیچھے چھپایا گیا تھا۔ یمن سے امریکہ کے ایک پتے پر بھیجے جانے کے بعد انہیں روک لیا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ صفحات ان دستاویزات کا حصہ تھے جو دنیا کی قدیم ترین مساجد میں شمار ہونے والی جامع مسجدِ صنعا سے نکالی گئی تھیں۔
میوزیم کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مجموعہ جات و نمائش، ڈینیئل بینیٹ نے سمگلنگ کے ایک طریقے کو ’ہوبی لابی طریقہ‘ قرار دیا۔
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ان اشیا کو جدید ٹائلیں ظاہر کرتے ہیں، دستاویزات میں جعل سازی کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ترسیل کے دوران سامان کا پیکٹ کھولا نہیں جائے گا۔‘
جیس رابنسن نے وضاحت کی کہ بڑی تاریخی اشیا کی سمگلنگ کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول، ’جب آپ عجائب گھروں میں جاتے ہیں تو آپ کو بہت سے ایسے مجسموں کے سر نظر آتے ہیں جن کے دھڑ موجود نہیں ہوتے، کیونکہ پورے مجسمے کے مقابلے میں صرف سر کو کاٹ کر منتقل کرنا کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے۔‘

اس تجربے کے بعد میوزیم نے تاریخی اشیا کی اصل ملکیت اور ماخذ سے متعلق دستاویزات کی جانچ کے ضوابط مزید سخت کر دیے ہیں۔ اب اس بات کے ثبوت طلب کیے جاتے ہیں کہ کوئی شے اپنے اصل ملک سے قانونی اور اخلاقی طریقے سے منتقل کی گئی تھی۔
لندن کی نیلامیوں میں یمنی نوادرات پر سوالات
یمن کے جنرل آرگنائزیشن آف اینٹیکویٹیز اینڈ میوزیمز نے بھی جولائی میں لندن میں بونہیمز اور اپولو آرٹ آکشنز کی جانب سے نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی بعض اشیا پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
بونہیمز نے جنوبی عرب سے تعلق رکھنے والا عورت کا ایک سنگِ مرمر نما سنگِ یشبین سر پیش کیا، جس کی عمر تقریباً دو ہزار سال بتائی گئی۔ اس کی تخمینی قیمت پانچ ہزار سے آٹھ ہزار برطانوی پاؤنڈ، یعنی تقریباً 6,700 سے 10,600 ڈالر، مقرر کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جنوبی عرب کے ایک بڑے مردانہ سر کی قیمت 20 ہزار سے 30 ہزار پاؤنڈ کے درمیان لگائی گئی۔ دونوں اشیا کے لیے کوئی خریدار سامنے نہیں آیا۔
بونہیمز کے مطابق، مردانہ سر عدن میں قائم ایک نجی مجموعے کا حصہ تھا اور اسے نومبر 1967 سے پہلے بیرونِ ملک منتقل کیا گیا تھا۔ نومبر 1967 میں برطانیہ نے اس علاقے سے انخلا کیا تھا۔
نیلام گھر نے عرب نیوز کو بتایا کہ اس نے ان اشیا کی ملکیت اور تاریخی ماخذ سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لیا تھا اور اسے یقین تھا کہ انہیں قانونی طور پر فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔
اپولو آرٹ آکشنز نے بھی اس الزام کو مسترد کیا کہ اس نے جان بوجھ کر غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی یا لوٹی ہوئی قدیم اشیا نیلامی کے لیے پیش کیں۔ ادارے نے اپنے مؤقف میں اشیا کی جانچ پڑتال کے طریقۂ کار اور آرٹ لاس رجسٹر کے ریکارڈ سے ان کا موازنہ کرنے کے عمل کا حوالہ دیا۔

ان الزامات میں سے کوئی بھی بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ متعلقہ نوادرات چوری کیے گئے تھے۔ تاہم یہ معاملات اس امر کی اہمیت ضرور اجاگر کرتے ہیں کہ تاریخی اشیا کی ملکیت اور ان کی منتقلی کے ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ کی جائے، خصوصاً جب ان کا تعلق ایسے ملک سے ہو جو طویل جنگ اور تاریخی ورثے کے بڑے پیمانے پر نقصان سے گزر رہا ہو۔
صالح البیضانی نے خبردار کیا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر کسی مخصوص ادارے یا خریدار کو ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں۔ تاہم ان کے مطابق، نوادرات کی تجارت کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ ہر شے کے ماخذ اور ملکیت کی مکمل جانچ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ’انہیں ملکیت کی ایک قابلِ اعتبار اور مسلسل تاریخ پیش کرنے، متعلقہ برآمدی دستاویزات فراہم کرنے اور یہ واضح کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ کوئی شے پہلی مرتبہ بین الاقوامی منڈی میں کب اور کیسے پہنچی۔‘
ان کے بقول ’جو خریدار غیر واضح ماخذ والی اشیا خریدنے پر آمادہ ہوتے ہیں اور جو واسطہ کار ملکیت کے نامکمل ریکارڈ کو قبول کر لیتے ہیں، وہ نوادرات کی مزید لوٹ مار کے مالی محرک کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔‘
صالح البیضانی نے برٹش میوزیم اور نیلام گھرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یمنی حکام کی جانب سے نشان دہی کی گئی اشیا کی ملکیت اور ماخذ سے متعلق دستاویزات عام کریں اور آزادانہ تحقیقات میں تعاون کریں۔ ان کے مطابق، جس شے کے بارے میں ثابت ہو جائے کہ اسے غیر قانونی طور پر یمن سے نکالا گیا تھا، اسے نیلامی سے ہٹا کر واپس کیا جانا چاہیے۔
تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے جامع ریکارڈ کی ضرورت
یمن کے محکمہ آثارِ قدیمہ کو اس وقت ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ آثارِ قدیمہ کے سروے بند ہو چکے ہیں، غیر ملکی تحقیقی ٹیمیں ملک چھوڑ چکی ہیں اور یمن میں تاریخی مقامات کے تحفظ اور غائب ہونے والی اشیا کا سراغ لگانے کے لیے کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔

محمد علی ثامر کے مطابق، یمن کو تباہ شدہ آثارِ قدیمہ کے مقامات اور سمگل ہو کر بیرونِ ملک فروخت ہونے والے نوادرات کا ایک جامع رجسٹر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا ریکارڈ تحقیقات میں مدد دے سکتا ہے، تاریخی اشیا کی واپسی کے دعووں کو تقویت پہنچا سکتا ہے اور ورثے کو پہنچنے والے نقصان کے حقیقی حجم کا تعین کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
نے خبردار کیا کہ تاریخی ورثے کے مزید نقصان کے اثرات صرف انفرادی نوادرات کے غائب ہونے تک محدود نہیں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس بات سے شدید دکھ ہوتا ہے کہ یمن ایسے وقت میں اپنی تاریخ کا مزید حصہ کھو سکتا ہے جب وہ پہلے ہی اپنے باقی ماندہ ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔‘
ان کے بقول ’یہ اشیا محض قیمتی ملکیت نہیں بلکہ ہزاروں سال پر محیط تہذیب کے شواہد ہیں۔ جب یہ غائب ہو جاتی ہیں تو ان کے ساتھ ہماری تاریخ کا ایک حصہ بھی ہمیشہ کے لیے کھو جاتا ہے۔‘











