Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلورو میں موٹاپے کا مقابلہ: چار ٹانگوں والے امیدوار، سوشل میڈیا پر انتخابی مہم

’فیٹ ڈاگز آف بی ایل آر‘ نامی اس دلچسپ مقابلے کا آغاز یکم اکتوبر کو ہوا تھا (فوٹو: انڈین ایکسپریس)
یوں تو انڈیا میں تہواروں کی بھرمار ہے لیکن ایک بڑا تہوار انتخابات بھی ہوتے ہیں۔ انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں تہواروں کی ابتدا سے قبل ایک ایسا انتخابی دنگل سجا ہے جس میں نہ سیاست دان ہیں، نہ انتخابی منشور اور نہ ہی ٹیلی ویژن پر ہونے والے گرما گرم مباحثے۔
یہاں امیدواروں کی چار ٹانگیں ہیں، ان کی دُمیں ہلتی ہیں اور پیٹ ذرا زیادہ نکلا ہوا ہے۔ جی ہاں، انڈیا میں ٹیکنالوجی کا  مرکز کہلانے والے شہر بنگلورو میں سب سے فربہ یا موٹے کتے کا انتخاب ہونے جا رہا ہے، اور مقابلہ اب اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔
’فیٹ ڈاگز آف بی ایل آر‘ نامی اس دلچسپ مقابلے کا آغاز یکم اکتوبر کو ہوا تھا۔ اس میں بنگلورو کے 64 کتوں کو شرکت کا موقعہ ملا لیکن کئی مرحلوں کی چھانٹی اور آن لائن ووٹنگ کے بعد اب صرف دو امیدوار میدان میں باقی رہ گئے ہیں جن میں سے کسی ایک کو شہر کے سب سے موٹے کتے کا تاج پہنایا جائے گا۔
اس مقابلے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں ووٹ ڈالنے والے انسان ہیں، مگر امیدواروں کو شاید اس بات کا اندازہ بھی نہیں کہ ان کی خاطر سوشل میڈیا پر کتنی سرگرم مہم چل رہی ہے۔ ان کے حامی تصویری پوسٹر بنا رہے ہیں، دوسروں سے ووٹ دینے کی اپیل کر رہے ہیں اور اپنے پسندیدہ کتے کو جتوانے کے لیے پورا زور لگا رہے ہیں۔ گویا یہ کوئی بلدیاتی انتخاب ہو، جس میں ہر امیدوار کے پیچھے ایک وفادار انتخابی ٹیم کھڑی ہو۔
 دہلی کے بعد بنگلورو کی باری
بنگلورو اس نوعیت کا مقابلہ منعقد کرنے والا انڈیا کا پہلا شہر نہیں ہے۔ اس سے قبل دہلی میں بھی ’فیٹ ڈاگز آف دہلی‘ کے نام سے ایسا ہی مقابلہ منعقد کیا گیا، جس میں دہلی اور قومی دارالحکومت والے خطے کے 64 کتوں نے حصہ لیا تھا۔ ان کتوں کو ان کے علاقوں کے لوگوں نے نامزد کیا اور پھر سوشل میڈیا پر ان کی حمایت میں مہم چلائی گئی۔
بزنس ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی کے مقابلے میں ساکیت کے رہائشی کا 46 کلو وزنی مخلوط نسل کا کتا ’گوگو‘ خاص توجہ کا مرکز بنا۔ گوگو وزن گھٹانے کے ایک پروگرام سے بھی گزر رہا تھا۔ اس کا مقابلہ یوسف سرائے کے ’ریمبابو‘ سے تھا، جسے ’چونکی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سروجنی نگر کا ’موتی‘، نوئیڈا کا ’مہاکُتّیشور‘ اور روہنی کا ’کُتّا سنگھ‘ بھی مقابلے کے نمایاں امیدواروں میں شامل تھا۔ ان ناموں نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا تھا۔

صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ اپنے متبادل اکاؤنٹس سے بھی ووٹ دے رہے ہے اور اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے لے رہے ہیں (فائل فوٹو: این ڈی ٹی وی)

دہلی میں اس مقابلے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امیدواروں کے حامیوں نے ان کے لیے پوسٹر تیار کیے اور آن لائن ووٹ مانگے۔
انسٹاگرام پر لوگوں نے اپنے پسندیدہ کتوں کی حمایت میں پیغامات لکھے۔ ایک صارف نے لکھا کہ وہ تمام کتوں کو جیتتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا مشکل ہے۔ ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ اپنے متبادل اکاؤنٹس سے بھی ووٹ دے رہے ہے اور اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
الاسکا کے ریچھوں سے محلّوں کے کتوں تک
منی کنٹرول نامی ویب سائٹ کے مطابق اس انوکھے مقابلے کا تصور الاسکا میں ہونے والے سالانہ ’فیٹ بیئر ویک‘ سے ملتا جلتا ہے۔ اس مقابلے میں بھورے ریچھوں کی تصاویر کے ذریعے لوگوں کو دکھایا جاتا ہے کہ وہ سردیوں کے طویل موسم سے پہلے اپنے جسم میں چربی کے ذخائر کیسے بڑھاتے ہیں۔ لوگ اپنے پسندیدہ ریچھ کو ووٹ دیتے ہیں۔ انڈیا میں اسی خیال کو شہری زندگی کے رنگ میں ڈھال دیا گیا ہے، جہاں جنگلی ریچھوں کی جگہ محلوں میں گھومنے والے مانوس کتے لے لیتے ہیں۔

اس سرگرمی کا مقصد کتوں سے محبت کرنے والے لوگوں کو ایک مشترکہ دلچسپی کے ذریعے قریب لانا ہے (فوٹو: انڈین ایکسپریس)

این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلورو کے مقابلے میں چارلیز اینیمل ریسکیو سینٹر (سی اے آر ای یعنی کیئر) ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ایپ ’فیو‘ اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے سافٹ ویئر تیار کرنے والے پلیٹ فارم ’ایمرجنٹ‘ نے اشتراک کیا ہے۔
مقابلے کی ویب سائٹ بنانے کے لیے ایمرجنٹ کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ منتظمین کے مطابق اس سرگرمی کا مقصد کتوں سے محبت کرنے والے لوگوں کو ایک مشترکہ دلچسپی کے ذریعے قریب لانا ہے۔

 

شیئر: