Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کاکروچ جی‘ کے بعد ’مکھی میڈم‘، انڈیا میں نئی طنزیہ سیاسی پارٹی کیوں بن گئی؟

اس سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز مئی میں انڈیا کے چیف جسٹس کے ایک بیان کے بعد ہونے والے آن لائن ردعمل سے ہوا تھا۔ (فوٹو: نیوز 18)
انڈیا میں سوشل میڈیا پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بعد اب ’مکھی جنتا پارٹی‘ (ایم جے پی) بھی سامنے آگئی ہے، جو مکھی کے ایموجی کے ذریعے جمہوریت کے تحفظ، کاروبار کے فروغ اور معاشی ترقی کا پیغام دے رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ’مکھی جنتا پارٹی‘ کے نام سے ایک اکاؤنٹ بنایا گیا ہے، جہاں اسے ’نوجوانوں کا، نوجوانوں کے ذریعے اور نوجوانوں کے لیے‘ سیاسی محاذ قرار دیا گیا ہے۔
پلیٹ فارم کے مطابق اس کے مقاصد میں جمہوریت کا تحفظ، شہریوں کے وقار کا دفاع اور ان کے حقوق کی پاسداری شامل ہیں۔
مکھی جنتا پارٹی کا سامنے آنا انڈیا کے چیف جسٹس سوریا کانت کے عدالتی ریمارکس کے بعد سامنے آنے والے تنازع سے جُڑا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج اور نئی دہلی میں مظاہروں پر عائد پابندیوں سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مبینہ طور پر مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو مظاہرین سے نمٹنے کے لیے ’مکھی مارنے کے لیے ہتھوڑا استعمال کرنے‘ جیسا طریقہ اختیار کرنے سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔
مکھی جنتا پارٹی نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اسی تناظر میں سوال اٹھایا کہ کیا جمہوریت میں شہریوں کو ایک دن ’کاکروچ‘ اور اگلے دن ’مکھیاں‘ قرار دیا جانا چاہیے؟
انسٹاگرام پر مکھی جنتا پارٹی کے فالوورز کی تعداد اب تک ایک لاکھ 11 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

مکھی جنتا پارٹی کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی سیاست پر بھی تنقید کرتی ہے۔(فوٹو:انسٹاگرام)

واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز مئی 2026 میں انڈیا کے چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک بیان کے بعد ہونے والے آن لائن ردعمل سے ہوا تھا۔ 
انڈین ایکسپریس کے مطابق چیف جسٹس نے بعض افراد کے پیشہ ورانہ شعبوں میں داخلے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بے روزگار نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہہ دی تھی، جس کے بعد اس بیان پر تنقید اور طنزیہ ردعمل سامنے آیا۔
اس کے بعد ابھجیت دپکے کی جانب سے شروع کیا گیا یہ طنزیہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نوجوانوں میں مقبول ہوا اور اس کے ذریعے بے روزگاری، امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور حکومتی جواب دہی جیسے معاملات کو بھی اجاگر کیا گیا۔
بعد ازاں اس کے حامیوں نے نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔
مکھی جنتا پارٹی کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی سیاست پر بھی تنقید کرتی ہے اور سوال اٹھاتی ہے کہ احتجاج کے لیے دکھائی جانے والی توانائی کو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جماعت میمز اور نعروں سے آگے بڑھ کر ایک مستقل ڈیجیٹل مہم کی شکل اختیار کر پاتی ہے یا نہیں (فوٹو: ایم جے پی)

مکھی جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر درج ایک جملے میں دونوں پلیٹ فارمز کے درمیان فرق کو طنزیہ انداز میں بیان کیا گیا ہے: ’کاکروچ جی شکایات پیش کرتے ہیں، مکھی میڈم بھنبھناہٹ پیدا کرتی ہیں، جبکہ انڈیا کی تعمیر و ترقی کے لیے عملی کام یہاں کے معمار کرتے ہیں۔‘
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جماعت میمز اور نعروں سے آگے بڑھ کر ایک مستقل ڈیجیٹل مہم کی شکل اختیار کر پاتی ہے یا نہیں۔

شیئر: