انڈین ریاست راجستھان میں بی جے پی کے صدر مدن راٹھور ایک متنازع بیان کے بعد تنقید کی زد میں آ گئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تو وہ پاکستان کا ساتھ دیں گے۔
ای ٹی وی بھارت کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد راٹھور نے جمعے کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اس کا تعلق جنگ سے نہیں بلکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ سے تھا۔
جمعرات کو جے پور میں سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی سالگرہ کے موقع پر بی جے پی ہیڈکوارٹر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راٹھور نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ ہو تو وہ پاکستان کی حمایت کریں گے کیونکہ وہ انڈیا کا ہمسایہ ملک ہے، لیکن اگر معاملہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہو تو وہ انڈیا کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اور امریکہ کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو ہم پاکستان کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ ہمارا ہمسایہ ہے۔ لیکن جب معاملہ ہمارے اور پاکستان کے درمیان ہو تو ہم انڈیا کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی بات ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘
اس بیان پر کانگریس رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور راٹھور کے مؤقف پر سوالات اٹھائے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ وویک تنکھا نے سوال کیا کہ ایک قومی جماعت میں اہم عہدہ رکھنے والا رہنما ایسا بیان کیسے دے سکتا ہے۔
کانگریس کی قومی ترجمان شمع محمد نے سوشل میڈیا پر راٹھور کے بیان کو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ بی جے پی اپنے ’غیر محب وطن‘ رہنما کے خلاف کیا کارروائی کرے گی۔
मैंने जो बात कही थी, वह भारत और पाकिस्तान के बीच क्रिकेट मैच के संदर्भ में कही थी, लेकिन मेरे बयान को तोड़-मरोड़कर प्रस्तुत किया गया, जो बिल्कुल भी उचित नहीं है। -श्री @madanrrathore प्रदेश अध्यक्ष, भाजपा राजस्थान https://t.co/aQlexxLd2o
— BJP Rajasthan (@BJP4Rajasthan) October 15, 2026
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’پاکستان، جو ہمارے فوجیوں اور شہریوں کو قتل کرتا ہے، اس کے لیے بی جے پی کی محبت ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے۔ راجستھان بی جے پی کے صدر مدن راٹھور کہتے ہیں کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو وہ پاکستان کے ساتھ ہوں گے۔ کیا نریندر مودی اور امیت شاہ بھی پاکستان کے ساتھ ہیں؟ اگر نہیں تو بتائیں اس غیر محب وطن رہنما کے خلاف کیا کارروائی کی جا رہی ہے۔‘
عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے بھی راٹھور کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا پاکستان کا ساتھ دینے کی بات کرنا غداری کے مترادف ہے یا نہیں۔
پارٹی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’بی جے پی کے راجستھان صدر مدن راٹھور کا بیان کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو ہم پاکستان کے ساتھ ہوں گے۔ جب عوام سوال کریں تو انہیں پاکستانی کہا جاتا ہے، جب نوجوان آواز اٹھائیں تو انہیں دہشت گرد کہا جاتا ہے، لیکن جب بی جے پی کا ایک رہنما پاکستان کا ساتھ دینے کی بات کرتا ہے تو مودی کا قوم پرستی کا بیانیہ کہاں چلا جاتا ہے؟‘
BJP के राजस्थान प्रदेश अध्यक्ष मदन राठौड़ का बयान: अमेरिका-पाकिस्तान का युद्ध हुआ तो हम पाकिस्तान के साथ हैं! जनता सवाल पूछे तो पाकिस्तानी, युवा आवाज़ उठाए तो आतंकवादी! लेकिन BJP का नेता पाकिस्तान के साथ खड़े होने की बात करे तो मोदी जी का राष्ट्रवाद कहाँ चला जाता है? पाकिस्तान के साथ खड़े होने की बात करने वाली BJP देशद्रोही है या नहीं, मोदी जी?
— AAP (@AamAadmiParty) October 15, 2026
تنازع بڑھنے پر مدن راٹھور نے بی جے پی کے ایکس اکاؤنٹ پر وضاحتی بیان جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے جو بات کی تھی وہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے تناظر میں تھی، لیکن میرے بیان کو توڑ مروڑ کر ایسے انداز میں پیش کیا گیا جو بالکل مناسب نہیں ہے۔‘











