سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے نجران میں سعودی نیشنل گارڈ کا ایک فضائی نگرانی کرنے والا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اس میں سوار دونوں افسر جان سے گئے۔
عرب نیوز کے مطابق یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اتوار کو بتایا کہ اے ایچ سکس آئی طرز کا فضائی نگرانی کرنے والا ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث سعودی حدود میں گر کر تباہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر وزارتِ نیشنل گارڈ کی ملکیت تھا اور یہ یمن کی سرحد سے متصل نجران کے علاقے میں حادثے کا شکار ہوا۔
مزید پڑھیں
ترکی المالکی کے مطابق حادثے میں ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں افسر جان سے گئے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار دونوں افسر شہید ہو گئے۔‘
ترجمان نے جاں بحق افسران کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے رحمت کی دعا بھی کی۔
یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب یمن کے حوثی گروپ کے حالیہ حملوں کے باعث سعودی عرب میں ہائی الرٹ نافذ ہے۔
نجران یمن سے متصل سعودی عرب کا سرحدی علاقہ ہے اور ماضی میں کئی مرتبہ حوثیوں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
اتوار کو اس سے قبل ترکی المالکی نے بتایا تھا کہ اتحادی افواج کے فضائی دفاعی نظام نے خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور ریاض کے علاقے کو نشانہ بنانے والے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا۔
یہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب ریاض اور خمیس مشیط کے رہائشیوں کو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس کی جانب سے موبائل فون پر ’فضائی خطرے‘ سے متعلق انتباہی پیغامات موصول ہوئے جن میں لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 18, 2026
سنیچر کو بھی اتحادی افواج نے ریاض، مشرقی صوبے اور جنوبی علاقوں کے اوپر پرواز کرنے والے چار ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ یمن کے صوبہ صعدہ میں دو بیلسٹک میزائل لانچرز کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
جولائی میں یمن میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم مقامات پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم عرب اتحاد یمن میں حوثیوں کی فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے تاکہ سعودی عرب، یمن کے حکومتی زیرِ انتظام علاقوں اور بین الاقوامی بحری راستوں پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکا جا سکے۔












