سعودی فضائی دفاع نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے دو بیلیسٹک میزائلوں اور متعدد ڈرونز کو فضا ہی میں روک کر تباہ کر دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ بات اتحادی حکام نے اس وقت بتائی جب ریاض اور جنوبی شہر خمیس مشیط کے رہائشیوں کو فضائی خطرات سے خبردار کرنے والی ہنگامی الرٹس موصول ہوئیں۔
یمن میں قانونی حاکمیت کی بحالی کے لیے کام کرنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اتوار کی صبح بتایا کہ خمیس مشیط کی طرف داغے گئے دو بیلیسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں
-
کیا حوثی ملیشیا کی شکست کا وقت قریب آ گیا ہے؟Node ID: 909508
اس کے چند منٹ بعد جاری ہونے والے ایک علیحدہ بیان میں اتحادی ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کیا گیا۔
یہ اعلانات ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سویلین ڈیفنس (شہری دفاع) کی جانب سے مقامی وقت کے مطابق رات قریباً 1:30 بجے موبائل فونز پر بھیجی جانے والی الرٹس کے بعد سامنے آئے جن میں رہائشیوں کو ’معاندانہ فضائی خطرے‘ سے خبردار کیا گیا تھا۔
الرٹ کو چند منٹ بعد واپس لے لیا گیا۔
سنیچر کو ترکی المالکی نے کہا تھا کہ اتحادی افواج نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ریاض، مشرقی صوبے اور مملکت کے جنوبی علاقوں میں چار ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا تھا۔
انہوں نے یمن کے صوبہ صعدہ میں بیلیسٹک میزائل کے دو لانچروں کو بھی تباہ کرنے کا اعلان کیا۔
بعد ازاں شہری دفاع نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ خمیس مشیط اور قریبی شہر ابہا میں خطرہ ٹل گیا ہے جبکہ رہائشیوں پر زور دیا گیا کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کرتے رہیں اور بھیڑ جمع کرنے یا ویڈیو بنانے سے گریز کریں۔
یہ تازہ ترین واقعات یمن کے تنازع میں سالہا سال کی نسبتاً خاموشی کے بعد جولائی میں دوبارہ کشیدگی کے بڑھنے کے دوران سامنے آئے ہیں۔

سعودی عرب کو تیل کی تنصیبات، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم سٹریٹیجک مقامات کو نشانہ بنانے والے حوثی میزائلوں اور ڈرونز کے متواتر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
گزشتہ اطلاعات کے مطابق پچھلے ہفتے ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ان تازہ حملوں کے باعث مملکت بھر میں احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ وزارت تعلیم نے ریاض اور پڑوسی علاقے درعیہ میں آن لائن تعلیم کی مدّت میں توسیع کر دی ہے جبکہ متعدد غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو سعودی ہوائی اڈوں سے گریز کرنے یا اپنا سفر ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ پیش رفت مملکت کے لیے بڑھتی ہوئی علاقائی حمایت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوئی۔
مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے سنیچر کو کہا کہ قاہرہ سعودی عرب کی حفاظت میں مدد کے لیے درکار ’کسی بھی اقدام‘ کے لیے تیار ہے اگر درخواست کی جائے، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ مصر کا کردار دفاعی ہوگا۔
اسی اثناء میں سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئیں۔
سنیچر ہی کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں یونانی وزیر دفاع نیکوس دیندیاس نے اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ینبع میں تعینات یونانی پیٹریاٹ میزائل بیٹریوں کا دورہ کیا اور وہاں موجود یونانی فوج کے اہلکاروں سے ملاقات کی۔
نیکوس دیندیاس نے کہا کہ یہ فوجی دستہ توانائی کی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کر کے سعودی عرب کے دفاع میں مدد فراہم کرتا ہے۔












