Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج ختم کرنا ہے تو دہشت گردی کا مقابلہ کریں: بلاول بھٹو

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’میں نے قومی اسمبلی میں بھی دہشت گردی کے خلاف نیا نیشنل ایکشن پلان بنانے کی بات کی ہے۔‘ (فوٹو: سکرین گریب)
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج ختم کرنا ہے تو دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔
کراچی میں اتوار کو سانحہ کارساز کی یادگار پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ واقعی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایمرجنسی یا گورنر راج ختم کیا جائے تو انہیں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والی پالیسی پر سیاستدانوں اور حکومت سے بات کرنی چاہیے۔‘
’جس صوبے میں سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات ہو رہے تھے اس کا وزیراعلی عوام سے کہتا ہے کہ وہ دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرے گا۔ اگر سی ایم بزدل ہے تو اور دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو ہم تیار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے حکومت کا ساتھ دیا اور کے پی میں گورنر راج لگایا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں بہت سے لوگ دہشت گردی کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور ہم نے دہشت گردی کو شکست دی تھی، لیکن جب افغانستان میں حکومت بدل گئی تو پاکستان کی حکومت نے افغانستان میں موجود میں دہشت گردوں کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور جیل میں تھے انہیں آزاد کر دیا۔‘
’آج پاکستان ان غلط فیصلوں کا نقصان اٹھا رہا ہے، آج پھر کچھ قوتیں پاکستان جھنڈا سوات سے اتارنا چاہتی ہیں اور ہم ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’میں نے قومی اسمبلی میں بھی دہشت گردی کے خلاف نیا نیشنل ایکشن پلان بنانے کی بات کی ہے اور اپوزیشن کو بھی دعوت دی ہے۔ جب تک ہم مل کر ا س کا مقابلہ نہیں کرتے، ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘
ان کے مطابق ’اگر ہم ایسا ماحول بنا سکتے ہیں تو دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر وہ بھی کے پی میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں تو ایمرجنسی یا گورنر راج ختم کرنے پر بات ہو سکتی ہے۔‘
’جمہوری نظام میں بہتری لانے کی بھی بات کی ہے۔ حکومت نے کہا کہ الیکشن اصلاحات کے لیے کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے اور یہ قائم کی جائے گی۔ اگر ہم دھاندلی پر قابو پاتے ہیں تو جمہوریت میں بہتری آ سکتی ہے۔‘

 

شیئر: