Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا میں گورنر راج، توثیق سے متعلق پارلیمان کا مشترکہ اجلاس آج ہو گا

پاکستان کی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس آج اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کے حوالے سے بحث ہو گی اور حتمی توثیق بھی متوقع ہے۔
 صبح 11 بجے شروع ہونے والے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے بحث ہو گی اور توثیق کے حوالے سے بھی پیش رفت ہو گی۔
بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ہنگامہ خیز اجلاسوں کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی لی گئی تھی۔
حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان قومی اسمبلی میں چار گھنٹے سے زائد طویل بحث کے بعد پیش کی جانے والی اس قرارداد پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے شدید مخالفت اور نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی سیاسی و پارلیمانی حلقوں میں ہلچل نظر آئی جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گورنر راج اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے اتوار کو صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے کیے گئے فرمان کے ذریعے ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔
اس سے قبل ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ صدر نے نے خیبر پختونخوا میں کی سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کر دیے ہیں۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ جاری تھا اور اس کے قائدین نے اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کر رکھا تھا۔
ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ساتھیوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا اور لانگ مارچ بھی ختم ہو گیا تھا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو سینیٹ اجلاس سے خطاب میں خیبر پختونخوا میں لگنے والی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتی تھی، تحریک انصاف کی تمام چھ تجاویز ماننے کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی، گورنر راج اور ایمرجنسی آئین کے تحت لگائی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج اور پولیس والےی شہادتیں دیتے تھے جبکہ وزیراعلٰی سہیل آفریدی ان کے خلاف تقریریں کرتے تھے، ہم نے سیاسی بات کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ایوان میں مذاکرات ہوئے، ہماری بات چیت شروع ہی دہشت گردی پر ہوئی تھی، دہشت گردی کے 7 سے 8 نکات پر بات ہوئی۔

شیئر: