پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اکتوبر کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر کر دی ہے۔
اتوار کو صدر آصف زرداری کے دستخط کے بعد صوبے کی منتخب حکومت کے اختیارات ختم کرنے کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی تاریخ میں اکتوبر پہلے بھی اقتدار کی تبدیلیوں، سیاسی بحرانوں اور غیر معمولی واقعات کا گواہ رہا ہے۔ قدرتی آفات سے لے کر سیاسی تحریکوں اور عسکری مداخلتوں تک اس مہینے میں ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے ملکی سیاست کا رخ بدلا۔
آزادی کے بعد پہلے ہی اکتوبر میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ شروع ہوئی، اسی مہینے وزرائے اعظم کی برطرفی اور استعفوں جیسے واقعات پیش آئے جبکہ ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو بھی اکتوبر ہی میں قتل کیا گیا۔ اب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ بھی اسی تاریخ ساز مہینے کا حصہ بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
جب نواز شریف آرمی چیف کو ہٹاتے ہٹاتے جیل جا پہنچےNode ID: 608316
-
کے پی میں ایمرجنسی، وفاق کے اختیارات کیا ہوں گے؟Node ID: 909302
اکتوبر میں بڑے تاریخی واقعات اور سیاسی داؤ پیچ کو پشاور یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈی سینٹر کے سابق سربراہ ڈاکٹر فخر الاسلام اتفاقیہ بتاتے ہیں۔
اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک اتفاق ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں اس طرح سیاسی سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں، یہ کسی طے شدہ ٹائم فریم کے مطابق ہرگز نہیں ہو رہے۔ تاریخ میں اکثر ایسے مواقع آتے ہیں جن میں بعض اوقات واقعات زیادہ ہو جاتے ہیں۔‘
انہوں نے اس سے متعلق دسمبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دسمبر کا مہینہ بھی تاریخ پاکستان میں ’ستمگر دسمبر‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس مہینے میں حادثات زیادہ ہوئے ہیں۔
’مثال کے طور پر سقوط ڈھاکہ اور آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کو ہی دیکھ لیں، تو یہ محض اتفاق ہے کہ ایک ’کھوٹا تسلسل‘ بن جاتا ہے۔ اسی طرح اکتوبر بھی ہے جس میں نہ صرف پاکستان بلکہ روس میں بھی انقلاب برپا ہوا۔ اس لیے پوری دنیا میں اس مہینے کو ڈر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔‘
اکتوبر کا مہینہ پاکستان کی آزادی سے لے کر آج تک اہمیت کا حامل رہا ہے۔

11 اکتوبر 1947 کو ریاست خیرپور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تو 17 اکتوبر کو ریاست بہاولپور نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ اسی طرح 24 اکتوبر یعنی آج کے دن ہزاروں قبائلی مظفرآباد میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے ’آزاد کشمیر‘ کی حکومت قائم کی۔
ڈاکٹر فخر الاسلام اکتوبر کے مہینے میں ایک تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اسی مہینے پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو قتل کیا گیا۔ ’پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو بھی 16 اکتوبر 1951 کو قتل کیا گیا، جو کہ معمہ ہی رہ گیا اور پہلا مارشل لا بھی اسی مہینے میں نافذ کیا گیا۔‘
آٹھ برس بعد اسی مہینے 24 اکتوبر 1960 کو گجرات میں سب انسپکٹر محمد شاہ کو بھی مارا گیا جس نے لیاقت علی خان کے قاتل اکبر علی کو گولی ماری تھی۔
پنجاب یونیورسٹی، پاکستان سٹڈی سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نعمانہ کرن عمران بتاتی ہیں کہ ہر ایونٹ کا ایک پس منظر ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ سارے واقعات رونما ہوتے ہیں۔
’اس لیے اس تسلسل کو اتفاقیہ ہی کہہ سکتے ہیں، 24 اکتوبر 1954 کو گورنر جنرل ملک غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی تحلیل کی تو اس کے پیچھے ایک وجہ تھی کہ ایک بل پاس ہوا جس میں گورنر جنرل کے اختیارات کو کم کیا گیا۔ اس کے جواب میں گورنر جنرل نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کر دی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ اتفاق یہ بھی ہے کہ سات اکتوبر 1958 کو صدر پاکستان سکندر مرزا نے ملک میں مارشل لا نافذ کر کے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور عزیز احمد کو سیکریٹری جنرل سمیت ڈپٹی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔‘
اس حوالے سے ڈاکٹر فخر الاسلام بتاتے ہیں ’ہمیں وہ مارشل لا تو یاد ہے لیکن اس سے قبل 1954 میں جو حکومت بنی تھی وہ کسی کو یاد نہیں۔ یہ ایک ایسی حکومت تھی کہ وزارت داخلہ کے سیکریٹری بھی وزیر بن گئے۔ اسی طرح ایوب خان آرمی چیف بھی تھے اور وزیر دفاع بھی۔‘
ان کے مطابق اس کے بعد جو ’کیبینٹ آف ٹیلنٹس‘ بنی، اس میں حاضر سروس جنرل سمیت حاضر سروس بیوروکریٹس وزیر بن گئے تھے۔













