Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میزائل حملے میں زخمی ہونے کے باوجود مسافروں کو بچانے والا سعودی نوجوان

سلطان الحربی کے مطابق ہم سب اس عظیم مملکت کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں: فوٹو عرب نیوز
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملے کے دوران ایک نوجوان سعودی ملازم نے خود زخمی ہونے کے باوجود مسافروں کو محفوظ مقام تک پہنچانے میں مدد کی۔
27 سالہ سلطان الحربی کو ایئرپورٹ گراؤنڈ سروسز میں ملازمت شروع کیے ابھی ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ 10 اکتوبر کو ایئرپورٹ پر جب حملہ ہوا تو اس وقت وہ جدہ جانے والی پرواز کے مسافروں کو بورڈنگ پاسز اور شناختی کارڈز تیار رکھنے کی ہدایت دے رہے تھے۔
عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سلطان نے بتایا کہ حملے سے چند لمحے پہلے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسافروں کی رہنمائی کر رہے تھے، جن میں زیادہ تر عازمین شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم مسافروں سے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں، لیکن چند ہی سیکنڈ بعد اس ایریا کو نشانہ بنایا گیا اور ہر طرف دھواں اور آگ پھیل گئی۔‘
سلطان کے مطابق، حملے کے فوراً بعد تقریباً سات سیکنڈ تک انہیں کچھ سنائی نہیں دیا۔ جب ان کی سماعت بحال ہوئی تو ہر طرف چیخ و پکار، اللہ اکبر کی صدائیں اور آگ کے شعلے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اس صورت حال میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مسافروں کو باہر نکلنے کا راستہ دکھایا اور متاثرہ علاقے کو خالی کرانے میں مدد کی۔ وہ نچلی منزل پر بھی گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکال کر محفوظ مقام تک پہنچا سکیں۔
تبوک سے تعلق رکھنے والے سلطان نے مسافروں کی مدد جاری رکھی، یہاں تک کہ وہ خود ایک محفوظ مقام پر پہنچ گئے۔ وہاں انہیں اپنے کپڑوں پر خون نظر آیا تو احساس ہوا کہ وہ زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’تب مجھے اپنی ٹانگ میں درد محسوس ہوا۔‘
سلطان کی دائیں ران میں شیل کا ایک ٹکڑا لگا تھا۔ زخمی ہونے کے باوجود وہ لنگڑاتے ہوئے محفوظ مقام کی طرف بڑھے، جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ کنگ فہد میڈیکل سٹی میں ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے ان کی ران سے شیل کا ٹکڑا نکال دیا۔
حملے کے بعد سلطان کو سب سے پہلے اپنے ساتھیوں کی فکر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گیٹ پر موجود ساتھیوں سے ایک ایک کرکے رابطہ کیا تاکہ ان کی خیریت معلوم کر سکیں، کیونکہ واقعے کے بعد ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔
صحت یابی کے دوران سلطان کو سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کی جانب سے دعاؤں اور حوصلہ افزائی کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’یہ ہمارے ملک کے لیے ہماری ذمہ داری ہے۔‘
سلطان کے مطابق اس واقعے نے انہیں یہ احساس مزید دلایا کہ مملکت کی خدمت کے لیے ہر شخص اپنے منصب اور صلاحیت کے مطابق کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ہر شہری اپنے ملک کا سپاہی ہے اور اپنی ذمہ داری اور حیثیت کے مطابق اس کا دفاع کرتا ہے۔ ہم سب اس عظیم ملک کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔‘
سلطان الحربی نے حملے سے متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کرنے اور صورت حال سے نمٹنے میں سرکاری اداروں، نجی شعبے اور طبی ٹیموں کے کردار کو بھی سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت نے متاثرہ افراد کو جامع طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’سکیورٹی، سرکاری اور طبی شعبوں نے ذمہ داری کا بھرپور مظاہرہ کیا اور ہماری مدد کے لیے سب نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کیا۔‘
سلطان کا کہنا ہے کہ حملے کے باوجود ان کا حوصلہ کم نہیں ہوا، بلکہ مسافروں کی خدمت کے لیے دوبارہ کام پر واپسی کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اس واقعے نے میرا حوصلہ توڑنے کے بجائے میرے ایمان اور عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔ میں دوبارہ کام پر واپس آکر مسافروں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔‘
سلطان الحربی نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسا ہے اور یقین ہے کہ سعودی عرب ہر مشکل پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شیئر: