Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’میں گھر واپس جانا چاہتی ہوں‘، پرواز منسوخ ہونے کے باوجود متبادل راستوں سے مملکت واپسی

امل کو عزیزوں نے اپنے آبائی ملک تیونس یا کسی اور جگہ جانے کا مشورہ بھی دیا (فوٹو: عرب نیوز)
ریاض میں مقیم امل صغیر کو اس ہفتے جنوبی کوریا میں چھٹیاں گزارنے کے بعد وطن واپس پہنچنے میں تقریباً 22 گھنٹے لگے اور راستے میں کئی بار سفر کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔
حالیہ کشیدگی کے باعث ایئرپورٹ بند ہونے سے ان کا اصل سفری منصوبہ ممکن نہ رہا جس کے بعد وہ کنگ فہد کازوے کے راستے گاڑی میں سعودی عرب میں داخل ہوئیں۔
سیئول کا اپنا پہلا دورہ ان کے لیے خوشگوار رہا، تاہم وہ اپنے آٹھ روزہ سفر کو مزید بڑھانے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ عزیزوں نے انہیں اپنے آبائی ملک تیونس یا کسی اور جگہ جانے کا مشورہ بھی دیا، لیکن وہ سعودی عرب واپس آنا چاہتی تھیں۔
انہوں نے ان لوگوں سے، جو حالات معمول پر آنے تک سفر مؤخر کرنے کا مشورہ دے رہے تھے، کہا کہ ’میں گھر واپس جانا چاہتی ہوں۔‘
ریاض میں امل صغیر کی کمپنی کو صورتحال کا علم تھا جس نے امل کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حفاظت کو ترجیح دیں اور واپسی کے لیے جلدی نہ کریں لیکن امل جلد از جلد سعودی دارالحکومت پہنچنا چاہتی تھیں، جہاں وہ دو سال سے زائد عرصے سے مقیم ہیں۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’میری اصل پرواز روانگی سے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے منسوخ کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے کسی قریبی ملک کی تلاش شروع کی جہاں تک میں پرواز کے ذریعے پہنچ سکتی اور پھر زمینی راستے سے سعودی عرب میں داخل ہو سکتی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’آخرکار میں ایمریٹس کے ذریعے دبئی اور پھر بحرین پہنچی۔ وہاں مجھے پہنچنے پر ویزا مل گیا اورمیرا پرتپاک استقبال کیا۔ بحرین ایئرپورٹ کے باہر ہی مجھے ایک ٹیکسی مل گئی جو مجھے سیدھا الخبر لے گئی۔ وہاں پہنچنے میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔ پھر ایک دوست مجھے الخبر سے لینے آیا اور ہم گاڑی میں ریاض روانہ ہوئے۔ اس سفر میں چار گھنٹے لگے۔ سچ کہوں تو، سب کچھ بہت آسانی سے ہو گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سڑک کا راستہ مکمل طور پر محفوظ ہےاور مجھے گھر واپس آ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ ریاض اور سعودی عرب میں مجھے ہمیشہ تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ گھر واپس آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘
ریاض سے تعلق رکھنے والی رانیہ عبدالرحمان بھی کویت میں موجود تھیں اور انہیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ ’ہم واپسی کے لیے بالکل تیار تھے لیکن پھر ہمیں ای میل موصول ہوئی کہ کویت سے ریاض جانے والی پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔‘
رانیہ نے سعودی سفارت خانے سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ اگلے روز ایک مقررہ مقام پر پہنچیں جہاں سے بس کے ذریعے انہیں اور دیگر افراد کو ریاض واپس پہنچایا جائے گا۔ سفارت خانے نے تمام افراد کی شناختی دستاویزات کی نقول جمع کیں اور یہ بھی تصدیق کی کہ ان کے پاس قیام کے لیے مناسب جگہ موجود ہے۔
عبدالرحمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’سفارت خانے کے عملے نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں تنہا نہیں چھوڑا۔‘ وہ مکمل سفر سڑک کے راستے طے کرکے گھر واپس پہنچیں۔
گھر واپس پہنچنے کے بعد اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک عجیب سا احساس تھا اور مجھے بہت خوشی ہوئی۔ جب بھی کوئی مجھ سے کہتا کہ ’آپ کی بحفاظت واپسی پر اللہ کا شکر ہے‘ تو مجھے واقعی اس جملے کے معنی اور اہمیت کا احساس ہوا۔‘
انہوں نے بتایا کہ 12 گھنٹے کے اس سفر نے سب کو تھکا دیا لیکن وہ بحفاظت واپس پہنچنے پر شکر گزار تھیں۔ حکومت کی کوششوں پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سعودی سفارت خانے کا ہزار بار شکریہ‘

شیئر: