Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی بچے کے ایک جملے کی مملکت میں دھوم، مقامی برانڈز کی تحائف کی پیشکش

مقامی کاروباری اداروں نے موجودہ صورتحال سے متاثر ہونے والے سعودی بہن بھائیوں کے لیے کچھ راحت اور تفریح فراہم کی ہے تاکہ ان کے ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔
سعودی عرب کے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم نے، جو سعودی سول ڈیفنس کے زیرِ انتظام ہے، رواں ہفتے سیل براڈکاسٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے رہائشیوں کے موبائل فونز پر ممکنہ خطرات سے متعلق خودکار الرٹس بھیجے۔ یہ الرٹس جاری حملوں کے تناظر میں بھیجے گئے اور ان کی آواز خاصی بلند تھی، حتیٰ کہ ان موبائل فونز پر بھی جنہیں سائلنٹ موڈ پر رکھا گیا تھا۔
سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین اور سعودی باکسنگ فیڈریشن کے سربراہ ترکی آل الشیخ نے بدھ کے روز ایک 26 سیکنڈ کی وائرل ویڈیو شیئر کی جس میں دو کم عمر سعودی بہن بھائی، 10 برس کے عبداللہ القحطانی اور ان کی چھوٹی بہن، گھر میں آرام کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ایکس  پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں کم عمر بچی اچانک موصول ہونے والے الرٹ میسج پر حیرت اور گھبراہٹ کا اظہار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ہاتھوں میں موجود سمارٹ فون پر الرٹ کی آواز گونجتی ہے لیکن اسی دوران اس کا بھائی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور اسے تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ’ہم سعودی عرب میں ہیں، ڈرو مت۔‘
آل الشیخ نے جواب میں کہا کہ ’اوہ، میرے پیارے بچے، آپ کے لیے احترام۔‘
اس کے فوری بعد، قدیہ سٹی کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ نے آل الشیخ کی پوسٹ کا قوٹ ٹویٹ کرتے ہوئے القحطانی خاندان کو سال کے باقی عرصے کے لیے قدیہ سٹی میں واقع مشہور تفریحی مقامات سکس فلیگزاور ایکوا ریبیا کے مفت ٹکٹ دینے کی پیشکش کی۔

’اس اقدام کا مقصد خاندان کو پرسکون اور محفوظ نیند سونے اور پورا سال کھیل کود سے لطف اندوز ہونے میں مدد دینا ہے۔‘
سعودی عرب میں مقیم عبدالوہاب القحطانی کے اکاؤنٹ نے جواب میں ٹویٹ کیا کہ ’ہم سعودی عرب میں ہیں، ڈرو مت۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر تمام مارکیٹنگ مینیجرز اور تخلیقی شناخت کے ماہرین بھی اکٹھے ہو جائیں، تب بھی وہ شاید ایسا مختصر، بامعنی اور پُراثر جملہ نہ بنا سکیں جیسا اس بچے نے کہا ہے۔‘
جواباً سعودی عرب کے لگژری پرفیوم برانڈ رسیس نے پوسٹ کیا کہ ’خوف سعودی لغت میں شامل نہیں ہے۔ رسیس کی جانب سے آپ کو 50 پرفیوم اور عود کی 50 بوتلیں تحفے میں پیش کی جاتی ہیں۔‘

سعودی فوڈ برانڈ سعن جو خود کو ’جدید روح کے ساتھ سعودی کھانوں کا ایک منفرد تجربہ‘ قرار دیتا ہے، نے بھی یہ ویڈیو شیئر کی اور القحطانی خاندان کو مفت کھانا کھلانے کی پیشکش کی۔
اس ماہ کے اوائل میں وزارتِ تعلیم نے دارالحکومت میں تمام تعلیمی اداروں میں کلاسیں معطل کر دی تھیں اور اگلے احکامات تک آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔

شیئر: