میونسپلٹی کے ترجمان نایف النفیعی نے بتایا فیٹسیول کے مقامات پر اونٹوں کے 26 ماڈلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ گھریلو دستکاری کو فروغ دینے کے لیے 30 سے زائد سٹالز موجود ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد اونٹوں سے وابستہ ثقافتی ورثے کو نمایاں کرنے اور عنیزہ کمشنری میں روایتی و ثقافتی تقریبات کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
فیسٹیول میں علاقے سے تعلق رکھنے والی دستکار خواتین کو بھی اپنی مصنوعات پیش کرنے کا موقع ملے گا جبکہ اس سے علاقائی تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
فیسٹیول 8 روز تک جاری رہے گا: فوٹو ایس پی اے
یاد رہے کہ مملکت کے قومی ورثے میں 2.2 ملین اونٹ رجسٹرڈ ہیں۔ ریاض ریجن میں قومی ورثے میں رجسٹرڈ اونٹوں کی تعداد 65 لاکھ 64 ہزار سے زیادہ ہے۔
نر اونٹ کو ’جمل‘ اور مادہ کو ’ناقہ‘ کہا جاتا ہے جب کہ اونٹوں میں بے شمار جمالیاتی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو انہیں منفرد شناخت دیتی ہیں۔
اونٹوں کی نیلامی کے تیسرے ایڈیشن کی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔ فیسٹیول کے انتظامات 12 لاکھ مربع میٹر رقبے پر کیے گئے: فوٹو ایس پی اے
منفرد اور اہم خصوصیات کی بنیاد پر اونٹوں کی قیمتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ مختلف قسم کے اونٹوں میں مخصوص جمالیاتی خصوصیات ہیں۔ بڑا سر اور لمبے ہونٹ خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں اور ابھری ہوئی ناک مجموعی کشش میں اضافہ کرتی ہے۔
گردن جتنی لمبی ہوگی، اونٹ کی کوہان جتنی اونچی ہو گی، گلا جتنا چوڑا ہوگا، اونٹ اتنا ہی خوبصورت ہوگا۔