سعودی عرب سرمایہ کاری اور افزائشِ نسل کے لیے اونٹوں کے مقابلے پر کیوں توجہ دے رہا ہے؟
سعودی عرب سرمایہ کاری اور افزائشِ نسل کے لیے اونٹوں کے مقابلے پر کیوں توجہ دے رہا ہے؟
جمعرات 13 اگست 2026 12:12
پوائنٹس کی حتمی تصدیق ڈوپنگ ٹیسٹ کے نتائج موصول ہونے کے بعد ہی ہر فیسٹیول کے اختتام پر کی جائے گی (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب اونٹوں کی دوڑ کے لیے 5 لاکھ سعودی ریال (1 لاکھ 33 ہزار 300 امریکی ڈالر) کے نئے انعام کے ذریعے مقامی سطح پر اونٹوں کی افزائش میں سرمایہ کاری بڑھانے، نئے مالکان کو راغب کرنے اور اس کھیل کی معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اونٹوں کی دوڑ مملکت کے ثقافتی ورثے اور وژن 2030 کے اہداف کے سنگم پر موجود ایک اہم کھیل ہے۔
سعودی کیمل ریسنگ فیڈریشن نے ’کراؤن پرنس کیمل فیسٹیول کپ‘ متعارف کرایا ہے جو صرف سعودی شرکاء کے لیے ایک مخصوص مقابلہ ہوگا۔ یہ کپ اس مالک کو دیا جائے گا جو 2026-2027 کے سیزن کے دوران سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرے گا۔
یہ کپ پہلی بار آٹھویں ولی عہد اونٹ ریس فیسٹیول میں متعارف کرایا جائے گا جو تین ستمبر سے طائف اونٹ ریسنگ ٹریک پر شروع ہوگا۔
اگرچہ اس انعام کا مقصد موجودہ مالکان کے لیے مقابلے کی دلچسپی کو بڑھانا ہے لیکن فیڈریشن اس مقابلے کو نئے سرمایہ کاروں کو اونٹوں کی دوڑ میں لانے اور سعودی نسل کے اونٹوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔
سعودی کیمل ریسنگ فیڈریشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمود بن سلیمان البلوی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’اس کپ کو متعارف کرانے کا مقصد سعودی اونٹوں کے مالکان اور بریڈرز (افزائشِ نسل کرنے والوں) کی حمایت کرنا ہے تاکہ انہیں کراؤن پرنس کیمل فیسٹیول جیسے بڑے ایونٹ میں مقابلہ کرنے کا موقع مل سکے۔‘
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اپنے ثقافتی اور کھیلوں کے شعبوں کو منظم صنعتوں میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے جو قومی میراث کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشی مواقع بھی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
البلوی نے مزید کہا کہ ’فیڈریشن نے ہمیشہ مختلف مقابلوں اور ایونٹس کے ذریعے سعودی مالکان کو بہترین انعامات دینے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح کا انعام متعارف کروانا شرکاء کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے اور سرمایہ کاروں اور نئے مالکان کے لیے اس کپ کے مقابلے میں حصہ لینے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔‘
پوائنٹس کا ایسا نظام جس میں پورے سیزن کی کارکردگی کو ترجیح دی جائے گی
پورے سیزن پر محیط اس فارمیٹ کا مطلب یہ ہے کہ یہ مقابلہ صرف کسی ایک جیت کی کارکردگی پر منحصر نہیں ہے۔ مالکان مخصوص ریسز میں پوائنٹس حاصل کرتے ہیں جس سے بہترین کارکردگی دکھانے والے اونٹوں اور افزائشِ نسل (بریڈنگ) کے پروگراموں میں مسلسل سرمایہ کاری کی مالی ترغیب بڑھتی ہے۔
عوامی ریسز اور سعودی نسل کی ریسز کے فاتحین کو 25 پوائنٹس دیے جائیں گے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے کو 20، تیسرے کو 15، چوتھے کو 10 اور پانچویں نمبر پر آنے والے کو پانچ پوائنٹس ملیں گے۔ دیگر ریسز میں صرف فاتح کو 10 پوائنٹس ملیں گے۔
سعودی اونٹ پالنے والوں کے لیے مقامی نسل کے اونٹوں کی دوڑ پر زور دینے سے مسابقتی مقامی نسلیں تیار کرنے اور ملکی سطح پر پیدا ہونے والے اونٹوں کے معیار کو بہتر بنانے کی ترغیب ملے گی۔ اس کا مقصد مالکان، بریڈرز اور ریسنگ اونٹوں کا ایک ایسا مضبوط مقامی نظام قائم کرنا ہے جو سعودی عرب اور بیرونِ ملک بڑے مقابلوں میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
البلوی نے کہا کہ سعودی اونٹ ریسنگ فیڈریشن کے بورڈ کی جانب سے متعارف کرایا گیا یہ اقدام، جس کی سربراہی فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ فہد بن جلاوی بن عبدالعزیز بن مساعد کر رہے ہیں، سعودی اونٹ مالکان اور مقامی سطح پر اونٹوں کی افزائش و پیداوار کی براہِ راست معاونت کرتا ہے۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا ’اس کا بنیادی مقصد شرکاء کو ایسی مقامی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے متحرک کرنا ہے جو انہیں متعدد بین الاقوامی چیمپیئن شپس میں کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔‘
یہ طریقہ کار اونٹوں کی افزائشِ نسل کو اس کھیل کی طویل مدتی ترقی کے مرکز میں رکھتا ہے، جس سے تربیت، دیکھ بھال، نقل و حمل اور دیگر متعلقہ خدمات سے وابستہ افراد اور کاروباری اداروں کے لیے تجارتی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
شفافیت، قواعد و ضوابط اور مستقبل کی ترقی
شعبے کو پیشہ ورانہ انداز میں استوار کرنے کے ساتھ ساتھ فیڈریشن نے مقابلے کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت قواعد و ضوابط بھی متعارف کرائے ہیں۔
پوائنٹس کی حتمی تصدیق ڈوپنگ ٹیسٹ کے نتائج موصول ہونے کے بعد ہی ہر فیسٹیول کے اختتام پر کی جائے گی۔ اگر سیزن کے دوران کوئی اونٹ فروخت ہوتا ہے یا کسی دوسرے مالک کو منتقل کیا جاتا ہے، تو اس کے حاصل کردہ پوائنٹس نئے مالک کو منتقل ہو جائیں گے۔ تاہم، اگر کسی اونٹ میں ممنوعہ ادویات، الیکٹرک شاکس ڈیوائسز یا جسمانی حالت کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے والے دیگر طریقے استعمال میں پائے گئے تو اس کے مالک کو نااہل قرار دے دیا جائے گا۔
اگر مالکان سیزن کے اختتام پر برابر پوائنٹس پر رہتے ہیں، تو چیمپیئن شپ ٹائٹلز جنہیں ’سمبلز‘ کہا جاتا ہے، کی تعداد کے ذریعے فاتح کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر وہ پھر بھی برابر رہتے ہیں تو ریس میں سب سے کم وقت میں کامیابی حاصل کرنے کے ریکارڈ سے ٹائٹل کا فیصلہ ہوگا۔
البلوی کہتے ہیں کہ ’مقابلوں کے انتظام کے لیے ہمارے پاس ایک ماہر ٹیم موجود ہے جو تمام قوانین اور ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ سب کے لیے منصفانہ مقابلہ ممکن بنایا جا سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پوائنٹس کا نظام فیڈریشن کے بڑے مقابلوں کے انعقاد کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع جائزے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔
یہ کپ طائف کیمل ریسنگ ٹریک پر 3 ستمبر سے شروع ہوگا (فوٹو: عرب نیوز)
سرمایہ کاری میں یہ اضافہ وژن 2030 کے تحت روایت پر مبنی سرگرمیوں کو پائیدار معاشی شعبوں میں تبدیل کرنے کی سعودی عرب کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس میں کھیل، ثقافتی میراث، افزائشِ نسل اور سیاحت کو ایک ساتھ یکجا کیا جا رہا ہے۔
مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے، فیڈریشن کی منصوبہ بندی میں مزید انیشیٹیوز بھی شامل ہیں، جن میں جنوری میں شیڈول ’کنگ سلمان کیمل فیسٹیول کپ‘ بھی شامل ہے۔
البلوی نے کہا کہ ’اونٹوں کی دوڑ کی ترقی کو فروغ دینے اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کا ساتھ دینے کے لیے نئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم اونٹوں کے مالکان، ٹرینرز اور شہسواروں کی امنگوں پر پورا اترنے کے لیے کام کرتے رہیں گے جبکہ کامیابی کے تمام ذرائع فراہم کرتے رہیں گے جو اس کھیل کی مسلسل ترقی اور ہماری بھرپور قومی میراث کے تحفظ میں معاون ثابت ہوں۔‘
سعودی مالکان اور بریڈرز کو پورے سیزن کے اس مقابلے کے مرکز میں رکھ کر، یہ نیا کپ محض ایک مالی انعام سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس کا طویل مدتی امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ انیشیٹیوز انعامی رقم کے اس بڑھتے ہوئے سلسلے کو ایک ایسی خود مختار تجارتی صنعت میں تبدیل کر سکتے ہیں جو ثقافتی شناخت اور معاشی تنوع کو فروغ دے۔