السوانی: قصیم میں اونٹوں کی مدد سے کنویں سے پانی نکالنے کا روایتی طریقہ
’السوانی‘ قصیم ریجن کی زرعی طرز زندگی سے وابستہ روایتی طریقہ ہے جو جدید پمپوں سے آنے سے پہلے کھیتوں کو سیراب کرنے اور مویشیوں کو پانی پلانے کے لیے کنوؤں سے پانی نکالنے کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔ یہ طریقہ قصیم ریجن میں صدیوں تک رائج رہا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق قصیم میں زراعت کا انحصار پانی پر تھا۔ کسان کنوؤں سے پانی نکالنے کے لیے اپنی مہارت کے ساتھ جانوروں خصوصاً اونٹوں سے مدد لیتے تھے۔ اس کام کے لیے روایتی آلات کے ایک مکمل نظام موجود تھا۔
کنویں سے پانی نکالنے کے لیے اونٹ ایک مخصوص راستے پر چلتے تھے جسے علاقائی بولی میں ’المنحاۃ‘ کہا جاتا تھا۔ اونٹوں کے علاوہ بعض علاقوں میں بیل اور گدھے بھی اس کام کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
السوانی طریقے کے لیے راویتی طورپر تیار کردہ آلات بھی جڑے ہوئے تھے جنہیں مقامی ماحول میں دستیاب اشیا سے کاریگر تیار کتے تھے۔ ان میں سب سے نمایاں ’الغرب‘ تھا جو چمرے سے بنا ڈول ہوتا ہے اور کنویں سے پانی نکالنے کے لیے اسے استعمال کیا جاتا تھا۔ اسی طرح ’الرشا‘ رسی کو کہا جاتا تھا جسے ڈول یعنی ’الغرب‘ سے باندھ کر کنویں سے کھینچا جاتا تھا۔
قصیم ریجن عہدِ قدیم سے ہی زراعت، باغات اور نخلستان کے لیے معروف رہا ہے۔ زراعت کے لیے آبپاشی کا نظام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ پانی کے بغیر زراعت کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔

’السوانی‘ محض کنویں سے پانی نکالنے کا روایتی طریقہ ہی نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ علاقائی فن و وراثت بھی جڑی ہوئی ہے۔ کنویں سے پانی نکالتے وقت کارکن مخصوص گیت گاتے تھے۔ یہی گیت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قصیم کی عوامی یادداشت کا حصہ بن گئے۔
قصیم کے ایک کاشتکار صالح الحمد نے بتایا کہ ماضی میں السوانی خاص کر کسانوں کی زندگی کا بنیادی حصہ تھی۔ کنویں سے پانی نکالنا اور زمینوں کو سیراب کرنا انتہائی اہم عمل مانا جاتا تھا۔
کنویں سے پانی نکالنے کے لیے اونٹ کو سب سے مناسب جانور مانا جاتا تھا۔ اس کام کے لیے اونٹوں کو خصوصی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ السوانی کا ماہر ہی وہ اشارے اونٹ کو دیتا کہ اسے کب آگے بڑھنا اور کب واپس آنا ہے۔

آج السوانی قصیم ریجن کی تاریخ بیان کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ خاص طورپر ان تاریخی اور ثقافتی مقامات پر جہاں قدیم روایات کو نئی نسل کے سامنے زندہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ روایت محض ایک پرانا زرعی طریقہ ہی نہیں بلکہ آبا و اجداد کی مہارت صبر اور ماحول سے ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارنے کی صلاحیت کی بھی عکاس ہے۔
جدید آبپاشی کے نظام کے باعث السوانی کا کردار کم ہوگیا ہے لیکن ریجن کے بعض ورثہ دیہات، میلوں اور عوامی ثقافتی تقریبات میں آج بھی یہ روایت زندہ ہے اور اس کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یہ اقدام قصیم کے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
