کراؤن پرنس کیمل فیسٹیول کے فائنل میں 13 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کے 114 اونٹ شامل
فیسٹیول کے اختتامی پروگرام میں چار چیمپیئن شپ ریسز شامل تھیں(فوٹو: ایس پی اے)
طائف میں منعقدہ کراؤن پرنس کیمل فیسٹیول کے آخری چار فائنل راؤنڈز میں مجموعی طور پر 114 ریسنگ اونٹ مقابلے میں شریک ہوئے جن کی مجموعی مالیت 27 کروڑ سے 49 کروڑ 20 لاکھ سعودی ریال (تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ سے 13 کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر) ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق فیسٹیول کے اختتامی پروگرام میں چار چیمپیئن شپ ریسز شامل تھیں جن کے پہلے راؤنڈ میں 35، دوسرے میں 13، تیسرے میں 46 اور چوتھے راؤنڈ میں 20 اونٹوں نے شرکت کی۔
سعودی کیمل فیڈریشن کے زیرِ اہتمام اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سرپرستی میں منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں پانچ کروڑ سعودی ریال کی انعامی رقم رکھی گئی تھی جس نے سعودی عرب اور خلیج بھر سے نامور مالکان اور حریفوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
فیسٹیول کی سب سے معتبر ٹرافیاں، السیف (تلوار) اور البندق (بندوق)، بہترین حیل (مادہ اونٹ) اور زمول (نر اونٹ) کی چیمپیئن شپ ریسز میں دی جاتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ٹائٹل جیتنا اونٹ کی اہمیت، افزائشِ نسل کی صلاحیت اور مارکیٹ کی قیمت میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔
اونٹوں کے مالک اور ریسنگ کے ماہر عبداللہ الشریف کا کہنا ہے کہ حیل کیٹیگری میں مقابلہ کرنے والے ایک اونٹ کی مارکیٹ ویلیو عام طور پر 30 لاکھ سے 60 لاکھ سعودی ریال کے درمیان ہوتی ہے۔
زمول کیٹیگری میں اونٹوں کی قیمت 15 لاکھ سے 20 لاکھ سعودی ریال کے درمیان لگائی جاتی ہے۔
کچھ اعلیٰ معیار کے اونٹوں کی قیمت ان کی ریسنگ کے ریکارڈ، نتائج اور نسل کی بنیاد پر 70 لاکھ سے 80 لاکھ سعودی ریال تک پہنچ جاتی ہے۔
الشریف نے مزید کہا کہ اختتامی چیمپیئن شپ ٹرافی کے راؤنڈز کے لیے کوالیفائی کرنا اونٹ کی قیمت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے، جہاں ماضی کی کامیابیاں، افزائش نسل کی صلاحیت، شجرہ نسب، انعامی رقم اور مقابلے کا معیار سبھی مارکیٹ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سعودی کیمل سپورٹس کے ترجمان مرضی الخمعلی کا کہنا ہے کہ اس فیسٹیول نے سعودی عرب، خلیج اور عرب دنیا کی روایات کو ایک جگہ اکٹھا کرکے عالمی سطح پر حقیقی عرب ثقافت کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ محض ایک کھیلوں کے مقابلے سے آگے بڑھ کر ایک معاشی، سماجی اور ثقافتی تحریک بن چکا ہے جبکہ اس سے طائف کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو زندہ کرنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔
الخمعلی نے مزید کہا کہ ولی عہد کا نام جڑا ہونے کی وجہ سے یہ فیسٹیول پوری مملکت اور خلیج کے اونٹ مالکان کے لیے ایک ثقافتی اور معاشی مرکز میں تبدیل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیسٹیول کی تیز رفتار پیشرفت ورثے کو محفوظ رکھنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے پلیٹ فارم کے طور پر اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ 2018 میں اپنے آغاز کے بعد سے اس ایونٹ نے ایک لاکھ سے زیادہ اونٹوں کو متوجہ کیا ہے اور متعدد گنیز ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کیے ہیں۔
2025 میں اس کے ساتویں ایڈیشن نے ایک نیا سنگ میل عبور کیا جس میں اونٹوں کی شرکت ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی جو پچھلے ایڈیشنز میں ریکارڈ کیے گئے تقریباً 99 ہزار اونٹوں سے بھی زیادہ تھی۔

اس فیسٹیول کو 2024 میں 21,637 اونٹوں کی شرکت کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی اونٹ دوڑ کی میزبانی پر گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا تھا۔ مملکت کے اونٹ کے سال کے دوران منعقد ہونے والے اس ایونٹ نے جزیرہ نمائے عرب میں اس جانور کی دیرینہ ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اس فیسٹیول نے کئی اہم اعزازات بھی حاصل کیے ہیں جن میں چار گنیز ورلڈ ریکارڈز اور 2023 میں مکہ اکنامک ایکسیلنس ایوارڈ شامل ہے جو ثقافتی تحفظ، معاشی ترقی اور سعودی ورثے کے فروغ میں اس کی خدمات کا اعتراف ہے۔
فائنل سے پہلے جاری ہونے والی ایک الگ اپ ڈیٹ میں فیسٹیول کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ آٹھویں ایڈیشن کے دوران سعودی مالکان کے اونٹ 131 ریسز میں کامیابیوں کے ساتھ سرفہرست رہے۔
سعودی مالکان کے اونٹوں نے الحقائق کیٹیگری میں 47، اللقایا میں 21، الجذاع میں 15 اور الثنایا میں 9 کامیابیوں کے ساتھ مجموعی طور پر 92 ریسز جیتیں۔ انہوں نے انتاج السعودیہ ریسز میں 35 اور سباق الحجانہ کیٹیگری میں چار کامیابیاں حاصل کیں جس سے ان کی کل کامیابیوں کی تعداد 131 ہو گئی۔

اماراتی مالکان 35 جیتوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، اس کے بعد قطر 27 کامیابیوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ کویتی اور عمانی مالکان نے تین تین جبکہ بحرین نے ایک فتح حاصل کی۔
