حرمین شریفین کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان پاکستان فوج
حرمین شریفین کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ترجمان پاکستان فوج
پیر 19 اکتوبر 2026 14:22
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے جمعہ 7 اگست کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
انڈیپینڈنٹ عربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کے مطابق ’سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم یہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر ضروری معاونت پہلے ہی فراہم کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘
انہوں نے مزید تفصیلات پر بات سے احتراز کرتے ہوئے کہا کہ ایسا آپریشنل رازداری کے تقاضوں کے مناسب نہیں۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو براہِ راست فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آیا اسلام آباد کو اس حوالے سے کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے یا نہیں۔
تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان کو موصول ہونے والی کسی بھی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا اور اس بارے میں مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
مکہ دفاعی معاہدہ
اگست میں عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ طے پایا تھا اور حوثیوں کے حملوں کے بعد تینوں ممالک نے معاہدے میں درج اجتماعی دفاع کی ذمہ داریوں کو فعال بھی کر دیا ہے۔
ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اس عرصے کے دوران ہونے والی پیش ترفت کو ’غیرمعمولی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد پر شک کرنے والے بنیادی طور پر وہ لوگ ہیں جن کو اس سے مسئلہ ہے۔‘
ان کے بقول ’اصل اہمیت نتائج کی ہے۔’
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اتحاد کے سیکرٹریٹ کے تیزی سے قیام اور سیاسی، سٹریٹیجک اور دفاعی کمیٹی کی تشکیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی میںتینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان شامل ہیں۔
حوثیوں کے حملوں کے بعد تینوں ممالک نے معاہدے میں درج اجتماعی دفاع کی ذمہ داریوں کو فعال کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتحاد اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 پر مبنی ہے، جو ممالک کو اپنے دفاع کا حق دیتی ہے اور اجتماعی دفاعی نظام کا مقصد ان فریقوں کو واضح پیغام دینا ہے جو خطے کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے بقول ’اگر کوئی فریق تینیوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جنگ چھیڑتا ہے تو اس کے جواب میں اجتماعی ردعمل ہو گا۔‘
ترجمان فوج کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے حملوں کے بعد ملک کے عوام سے لے کر، سیاسی و عسکری قیادت تک میں سخت برہمی پائی گئی۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کوئی سمجھدار شخص سعودی عرب پر کیسے حملہ کر سکتا ہے، مقدس مقامات کے لیے کیسے خطرہ بن سکتا ہے یا کم سے کم یہ تاثر کیسے دے سکتا ہے کہ وہ ان کو نقصان پہچانے کا ارادرہ رکھتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنازعات میں شدت پیدا کرنا یا ان کے دائرے کو وسیع کرنا مسلم ممالک اور وہاں بسنے والے لوگوں کے مفاد میں نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’اگر مذاکرات کے ذریعے تصفیے تک بات نہ گئی اور فوجی تصادم میں تبدیل ہوئی تو مکہ معاہدے کے تحت اجتماعی دفاعی نظام لازمی طور پر فعال ہو جائے گا جیسا کہ پہلے بھی ہو رہا ہے۔‘