Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روس کی ثالثی کی کوششیں، وزیر خارجہ سرگئی لاوروف ایران پہنچ گئے

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اکتوبر کے آغاز میں مسعود پزشکیان کو بتایا تھا کہ ماسکو ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پیر کو ایران پہنچ گئے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے، جبکہ ماسکو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو کہا تھا کہ اس دورے میں ’علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت‘ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق لاوروف ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کریں گے اور اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات بھی کریں گے۔
لاوروف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ روس کی کوششوں کا مقصد ’ایک بڑی جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنا‘ ہے، جبکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اکتوبر کے آغاز میں مسعود پزشکیان کو بتایا تھا کہ ماسکو ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس اور ایران، جو دنیا کے سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتے ہیں، قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور اقتصادی تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ لاوروف کے دورے کے دوران بات چیت کا اہم محور ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف غیر قانونی جارحیت سے پیدا ہونے والے سنگین بین الاقوامی بحران کے حل کے طریقے‘ ہوں گے۔
وزارت کے مطابق اس جنگ نے ’نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔‘

 

شیئر: