امریکی بحریہ کو ایران کے خلاف پاکستانی سرزمین دینے کا دعویٰ ’من گھڑت پروپیگنڈا‘: پاکستان
اتوار 18 اکتوبر 2026 11:21
وزارت کے مطابق ’شمالی امریکہ میں قائم ایک اکاؤنٹ کی جانب سے پھیلایا گیا یہ من گھڑت پروپیگنڈا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے سنیچر کی شب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی بحریہ پاکستان کی اجازت سے اس کی سرزمین کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
وزارت نے ایکس پر جاری بیان میں ان الزامات کو ’من گھڑت پروپیگنڈا‘ قرار دیا اور کہا کہ ایسی پوسٹس ’کنفیوژن، غلط فہمیوں اور افراتفری پھیلانے کے وسیع تر ایجنڈے‘ کا حصہ ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ماہ سے جاری تنازع کے دوران امریکی بحریہ پاکستان کے علاقے سے ایران کے خلاف آپریشنز کر رہی ہے۔
وزارت کے مطابق ’شمالی امریکہ میں قائم ایک اکاؤنٹ کی جانب سے پھیلایا گیا یہ من گھڑت پروپیگنڈا، جسے بعد میں مشکوک انداز میں مزید پھیلایا گیا کہ امریکی بحریہ کسی طرح پاکستان کی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور اسے پاکستان کی منظوری حاصل ہے، بے بنیاد ہے اور کنفیوژن، غلط فہمیوں اور افراتفری پھیلانے کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے۔‘
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان نے بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث ایران کے ساتھ سرحدی تجارت عارضی طور پر معطل کر دی۔
ڈپٹی کمشنر چاغی بختیار اسماعیل نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایران کے ساتھ سرحدی تجارت عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان۔ایران سرحد کی بندش انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں معاونت اور سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے ایک عارضی اقدام ہے۔ مؤثر انتظامات مکمل ہوتے ہی سرحد دوبارہ کھول دی جائے گی۔‘
