فرانس اِن دنوں کئی دہائیوں کے دوران ہونے والے طلبہ کے سب سے بڑے احتجاج پر قابو پانے کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے۔ پیرس کے شمال میں واقع ایک مضافاتی ہائی سکول میں ہڑتال کرنے والے اساتذہ کی حمایت میں شروع ہونے والا یہ احتجاج اب ملک گیر بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔
سینکڑوں سکول بند ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے 5 ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں زیادہ تر نابالغ ہیں اور اِن کا ماضی میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں رہا۔ طلبہ، اساتذہ اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سی این این کے مطابق شمال مشرقی شہر لینس میں ایک طالب علم مبینہ طور پر ایک دستی بم اُٹھانے کے بعد اپنا ہاتھ کھو بیٹھا، جبکہ شہر ٹورز میں ایک اور طالب علم کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔
منگل کو طلبہ، اساتذہ اور ٹریڈ یونینز کے نمائندوں کی بڑی تعداد احتجاج کے تازہ ترین سلسلے میں سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور جھنڈے اُٹھا رکھے تھے۔ پیرس میں آنسو گیس فضا میں پھیل گئی جبکہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے دوران کچرے کے ڈبوں، سکول کی میزوں اور کرسیوں کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس نے ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے ڈھالیں اور لاٹھیاں اُٹھا رکھی تھیں۔
مزید پڑھیں
آخر ہو کیا رہا ہے؟
پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں واقع سینٹ ایگزوپیری ہائی سکول میں 21 ستمبر کو ہونے والے ابتدائی احتجاج پر بہت کم توجہ دی گئی تھی۔ طلبہ اپنے اساتذہ کے ساتھ عملے اور وسائل کی کمی کے خلاف احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔ اُن کے مطالبات جب تسلیم کر لیے گئے اور سکول میں اضافی عملہ بھیج دیا گیا تو ہڑتال ختم ہو گئی، لیکن تب تک چنگاری بھڑک چکی تھی اور یہ احتجاجی تحریک جلد ہی ملک بھر میں پھیل گئی۔
پیرس اور اس کے گردونواح کے ہائی سکولوں کے طلبہ نے سکولوں کے داخلی راستے بند کرنا شروع کر دیے اور چند ہی دنوں میں ملک بھر سے اسی طرح کے مناظر سامنے آنے لگے۔ شمال میں واقع شہر لیل سے لے کر جنوب میں مارسیلے تک احتجاج پھیل گیا۔ طلبہ کی جانب سے کچرے کے ڈبوں کو آگ لگانے، رکاوٹیں کھڑی کرنے، تدریسی عملے پر حملے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پولیس کے ردِعمل اور انتہائی بائیں بازو کی جماعتوں کے احتجاج میں کردار پر سوالات اُٹھنے لگے۔ احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد سے 100 سے زائد ہائی سکولوں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔

احتجاج میں تشدد اور پھر یہ تحریک جس تیزی سے پھیلی ہے، اس نے بہت سے لوگوں کو حیران کیا ہے، لیکن طلبہ کی شکایات نئی نہیں ہیں۔ فرانس کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے گنجائش سے زیادہ طلبہ، ناکافی سہولیات اور عملے کی کمی کا شکار رہا ہے اور بہت سے طلبہ کا خیال ہے کہ یہ نظام اب اُن کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہا۔
گذشتہ کئی برسوں سے ایسی ویڈیوز بھی سامنے آتی رہی ہیں جن میں کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں میزیں یا کرسیاں کم دکھائی دیتی ہیں، یا اساتذہ کی غیرحاضری کے باعث متبادل استاد نہ ملنے پر طلبہ کی کلاسیں منسوخ کر دی جاتی رہی ہیں۔
سال 2010 میں فرانس میں شرحِ پیدائش میں ہونے والے اضافے کے باعث اب ہائی سکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھ گئی ہے، جبکہ اِن سکولوں کو کئی برس سے حقیقی معنوں میں بجٹ میں کٹوتیوں کا سامنا ہے۔ سال 2008 کے مقابلے میں اب ثانوی سکولوں میں اساتذہ کی تعداد کم ہے، حالانکہ طلبہ کی تعداد میں اڑھائی لاکھ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ سرکاری سکولوں میں 70 فیصد کلاسوں میں 30 سے زیادہ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
حکومت کا ردعمل کیا ہے؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کا ردعمل سست اور طلبہ کے مسائل سے لاتعلقی والا رہا ہے۔ حکومت کی توجہ ابتدا میں بڑی حد تک انتہائی بائیں بازو کی جماعت ’لا فرانس انسومیز‘ (ایل ایف آئی) اور احتجاجی مظاہروں میں اس کی موجودگی پر مرکوز رہی۔
حکومت کی پوری توجہ اب بھی خصوصاً گزشتہ ہفتے کے آخر میں تشدد میں اچانک اضافے کے بعد مظاہرین کی جانب ہی ہے۔ وزیر داخلہ نے اس دوران یہ کہا کہ صورتِ حال طلبہ کے احتجاج سے نکل کر شہری تشدد کی شکل اختیار کر رہی ہے اور صرف ایک دن میں تقریباً 2,000 افراد کو حراست میں لیا گیا۔













