Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مطالبات پورے ہونے تک واشنگٹن سے بات نہیں ہو گی: ایران کا پاکستان آرمی چیف کو پیغام

اسلام آباد کی کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے حکام نے منگل کو پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو آگاہ کیا ہے کہ جب تک امریکہ مطالبات پورے نہیں کرتا تب تک کوئی بات نہیں ہو گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد کی کوششوں کے باوجود ایران اپنے موقف پر قائم ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے نور نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ثالثی کی کوششوں اور خطے کی صورت پر بات چیت ہوئی۔
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے پہلے اسلام آباد کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں جون میں عارضی امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے لیکن چند ہفتے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہوئی اور معاہدہ ناکام ہو گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ اس کے دوران محمد باقر قالیباف نے کہا کہ جب تک امریکہ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق پچھلے ماہ پیش کی گئی شرائط پوری نہیں کرتا، تہران اس پر اعتماد نہیں کر سکتا۔
ایران کے مطالبات میں اس کی بندرگاہوں پر نافذ امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی برآمدات پر سے پابندیاں اٹھانا اور خطے کے تمام محاذوں پر لڑائی کو ختم کرنا شامل ہیں۔

امن کوششوں کے ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلے بھی ایران کے کئی دورے کر چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی فوجی کے سربراہ نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی سے بھی ملاقات کی اور انہوں نے بھی یہی موقف دوہرایا کہ ایران کے مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کا افزودہ جوہری مواد ملک کے اندر ہی رہے گا اور سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے اس مؤقف کو بھی دوہرایا کہ ہتھیار بنانے کے قابل افزودہ یورینیم کو بیرون ملک نہیں بھیجا جانا چاہیے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ماہ کہا تھا کہ جنگ ختم کرنے اور امریکہ کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کو آٹھ ماہ ہو چکے ہیں۔
امریکہ اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے جو عام شہری مقاصد کے لیے درکار سطح سے کہیں زیادہ اور جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ضروری 90 فیصد کے قریب ہے۔
تاہم ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔

شیئر: