آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کا ذمہ دار امریکہ ہے: ایران
آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کا ذمہ دار امریکہ ہے: ایران
پیر 19 اکتوبر 2026 20:46
عراقچی نے کہا کہ ’امریکہ اور صہیونی حکومت (اسرائیل) کی مسلط کردہ جنگ اور اس کے ساتھ معاشی محاصرہ ہمارے خطے میں عدم تحفظ کا بنیادی سبب ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی ’عدم تحفظ‘ کی صورتحال کا اصل ذمہ دار واشنگٹن ہے۔
پیر کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ’امریکہ اور صہیونی حکومت (اسرائیل) کی مسلط کردہ جنگ اور اس کے ساتھ معاشی محاصرہ ہمارے خطے میں عدم تحفظ کا بنیادی سبب ہیں۔‘
انہوں نے اس سے قبل خلیج اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پیر کو تہران پہنچے تھے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے، جبکہ ماسکو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو کہا تھا کہ اس دورے میں ’علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت‘ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق لاوروف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کرنی ہے اور اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ بھی مذاکرات کرنا ہیں۔
لاوروف اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ روس کی کوششوں کا مقصد ’ایک بڑی جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنا‘ ہے، جبکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اکتوبر کے آغاز میں مسعود پزشکیان کو بتایا تھا کہ ماسکو ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس اور ایران، جو دنیا میں سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتے ہیں، قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور اقتصادی تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ اپریل میں جنگ بندی اور جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کشیدگی ختم نہیں ہو سکی۔
ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے ہائیڈروکاربن ایندھن کی ترسیل ہوتی ہے، اور تہران اکثر اپنی اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
اس کے جواب میں واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری جوابی محاصرہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ لاوروف کے دورے کے دوران ہونے والی بات چیت میں ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف غیر قانونی جارحیت سے پیدا ہونے والے شدید بین الاقوامی بحران کے حل‘ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
وزارت کے مطابق اس جنگ نے ’صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔‘