بالی وڈ کے سپرسٹار شاہ رخ خان کو اپنی فلموں ’پٹھان‘ اور ’جوان‘ کی مسلسل کامیابیوں کے بعد حال ہی میں قتل کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد اداکار کو مہاراشٹر کی ریاستی حکومت نے وائی پلس سکیورٹی فراہم کی ہے۔
متعدد معروف شخصیات کو متنازع فلموں میں کام کرنے یا ایسی فلمیں بنانے کے بعد قتل کی دھمکیاں ملیں، جس کے بعد حکومت کی جانب سے انہیں ایکس، وائی اور زیڈ پلس سکیورٹی فراہم کی گئی۔ ذیل میں اُن شخصیات کی فہرست دی گئی ہے جنہیں حکومتی سطح پر سکیورٹی فراہم کی گئی۔
شاہ رخ خان
مزید پڑھیں
شاہ رخ خان کو حال ہی میں قتل کی دھمکی موصول ہوئی، جس کے بعد مہاراشٹر حکومت نے انہیں وائی پلس سکیورٹی فراہم کی۔ اداکار کی حفاظت کے لیے 11 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو باری باری ان کے ساتھ ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ اِن میں سے چھ اہلکار پولیس کی حفاظتی گاڑی کے ساتھ اُن کی سکیورٹی پر مامور ہوتے ہیں۔ تاہم، شاہ رخ خان اپنی حفاظت پر تعینات اہلکاروں کے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔
سلمان خان
شاہ رخ خان سے قبل سلمان خان کو بھی لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملنے کے بعد مہاراشٹر حکومت نے وائی پلس سکیورٹی فراہم کی تھی۔ ممبئی پولیس کی جانب سے خطرے کی نوعیت کا جائزہ لینے کے بعد اُن کی حفاظت کے لیے مزید انتظامات بھی کیے گئے۔
امیتابھ بچن
گزشتہ برس امیتابھ بچن کو قتل کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد اُن کی سکیورٹی کو ایکس کیٹیگری سے بڑھا کر وائی کیٹیگری میں تبدیل کر دیا گیا۔ اِس سے قبل 80 سالہ اداکار کو ممبئی پولیس کی جانب سے معمول کی سکیورٹی حاصل تھی۔
کنگنا رناوت
سال 2020 میں رُکنِ اسمبلی سنجے راوت کے ساتھ تنازع کے بعد کنگنا رناوت کو بھی مرکزی وزارتِ داخلہ کی جانب سے وائی پلس سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔
اداکارہ نے سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے پر تبصرے کیے تھے اور مہاراشٹر کے شہر ممبئی کا موازنہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے کیا تھا۔ اِن بیانات کے بعد شیو سینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)کے رہنماؤں نے اِنہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

انوپم کھیر
بالی وڈ اداکار انوپم کھیر کو متنازع فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کی ریلیز کے بعد ایکس پلس سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ گزشتہ برس فلم کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیے جانے کے بعد اداکار کو قتل کی دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں۔
وویک اگنی ہوتری
وویک اگنی ہوتری فلم ’دی کشمیر فائلز‘کے ہدایت کار ہیں، جس میں کشمیری ہندوؤں کی صورتِ حال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ انہیں وائی کیٹیگری سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔
وویک اگنی ہوتری نے سکیورٹی ملنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر میں ہندوؤں کی نسل کشی کو سامنے لانے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔













