Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سمندر کی لہروں سے عالمی کُک بُک تک، جازان کی خواتین ماہی گیروں کی پذیرائی

عنبرا قاسم نے 40 برس سے زیادہ عرصہ قبل اپنی دادی کے ساتھ سمندر میں کام کا آغاز کیا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی جانب سے 2026 کو خواتین کسانوں کے بین الاقوامی سال کے طور پر منانے کے موقع پر شائع کی گئی عالمی ’کُک بُک‘ میں سعودی عرب کے علاقے جازان کے جزائر فرسان سے تعلق رکھنے والی خواتین ماہی گیروں کو شامل کیا گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کتاب میں خوراک کی پیداوار، روایتی علم و ہنر کے تحفظ اور مقامی آبادی کے معاش کے ذرائع کو سہارا دینے میں ان خواتین کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔
کتاب میں عنبرا قاسم کا تعارف بھی شامل ہے جنہوں نے 40 برس سے زیادہ عرصہ قبل اپنی دادی اور تجربہ کار ماہی گیروں کے ساتھ سمندر میں کام کا آغاز کیا تھا۔ اب وہ ماہی گیری اور کھانے کی تیاری سے متعلق روایتی ہنر سیکھنے کی خواہش مند نوجوان خواتین کو یہ مہارتیں منتقل کر رہی ہیں۔
ایف اے او کی اس ’کُک بُک‘ میں سعودی عرب کی ایک روایتی ڈش کی ترکیب بھی شامل ہے جس میں نمک لگا کر خشک کی گئی مچھلی کو سلاد کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ پکوان جزائر فرسان اور وسیع تر جازان ریجن کے روایتی کھانوں کی عکاسی کرتا ہے۔
کتاب میں مچھلی کو محفوظ کرنے کے اس روایتی طریقے کی بھی وضاحت کی گئی ہے جو نسل در نسل خاندانوں میں منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔

شیئر: