جازان میں کیلے کی وسیع پیداوار جو مقامی معیشت کو مضبوط بنا رہی ہے
کیلے کی سالانہ پیداوار 15 ہزار ٹن سے تجاوز کر چکی ہے(فوٹو: ایس پی اے)
جازان ریجن، اپنی متنوع آب و ہوا اور بہترین ماحول کے باعث مملکت میں ایک اہم زرعی مراکز کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رہا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق جازان ریجن میں کیلے کی کاشت وسیع پیمانے پر کی جاتی ہے۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صبیا، بیش اور ضمد کمشنریوں میں کیلے کی سالانہ پیداوار 15 ہزار ٹن سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان علاقوں میں 310 کاشتکار ہیں جبکہ کیلے کے درختوں کی تعداد 10 لاکھ کے قریب ہے۔
کیلے کی فصل سارا سال ہوتی ہے تاہم بعض اوقات پیداوار میں اضافہ مقامی منڈیوں میں وافر رسد فراہم کرتا ہے جس سے قیمتوں میں استحکام آتا ہے اور بڑھتی ہوئی طلب کو باسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔
جازان ریجن میں کیلے کے سب سے بڑے فارم کی مالکہ زلیخہ الکعبی نے اس زرعی فارم کا آغاز 2019 میں محدود پیمانے پر کاشت سے کیا تھا، جو بتدریج بڑھتے ہوئے 5 لاکھ مربع میٹر سے تجاوز کرگیا جبکہ درختوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
زلیخہ الکعبی کے مطابق’ سال 2020 میں باقاعدہ پیداوار کا آغاز کیا، سالانہ 20 ٹن سے زائد فصل حاصل کی گئی۔‘
انہوں نے بتایا’ ان کے فارم میں کاشت کیے جانے والے کیلوں میں سرخ کیلا، گرینڈ نین اور ہلکا نیلا کیلا شامل ہیں،امریکی کیلے کے درختوں کی تعداد زیادہ ہے۔‘
ماہرین زراعت کا کہنا ہے ’مختلف اقسام کی پیدوار کا دورانیہ مختلف ہوتا ہے، امریکی کیلا ایک سال سے کم عرصے میں تیار ہو جاتا ہے جبکہ سرخ کیلا تقریبا دو برس لیتا ہے۔‘
جازان میں کیلا نہ صرف زرعی پیداوار بلکہ ثقافتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہ مقامی مہمان نوازی اور روایتی پکوان جیسے ’المرسہ، مطبق اور معصوب وغیرہ کا اہم جزو ہوتا ہے، جبکہ اسے کیک اور جوسز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
جازان میں کیلے کی کاشت قدرتی وسائل اور کسانوں کے تجربے کے امتزاج کی عکاس ہے، جو نہ صرف زرعی شعبے کے استحکام بلکہ مقامی معیشت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہے۔ سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔