وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ناگزیر حالات کے باعث نافذ کرنا پڑا۔ صوبے میں امن و امان کی بحالی، عوامی مسائل کے حل اور ترقی کا عمل آگے بڑھانے کے لیے وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔‘
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو پشاور میں خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنے، عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ حالات میں صوبے کے عوام دہشت گردی اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی سمیت متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
شہباز شریف نے کہا کہ ’صوبے میں سخت فیصلے کرنے سے پہلے سیاسی مشاورت کی گئی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایک سیاسی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کے لیے کوششیں کیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بھی دو مرتبہ مشاورت کی گئی۔ لیکن اِن حالات میں مزید تاخیر ممکن نہیں تھی جس کے باعث حکومت کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔‘
وزیراعظم نے اس فیصلے کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آئین اور قانون صوبے میں اُٹھائے گئے اقدام کی اجازت دیتے ہیں۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج، سکیورٹی اداروں اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار بے گناہ شہری جان سے گئے اور ملک کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔‘
شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا، جس سے گزشتہ برسوں کی قربانیوں کے ثمرات متاثر ہوئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’قوم کے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں، اِن قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔‘

وزیراعظم نے سابق صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں تعلیم، صحت، امن و امان اور عوامی فلاح کے دیگر شعبوں کو نظر انداز کیا گیا۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، سیف سٹی منصوبہ مکمل نہیں ہوا اور انسدادِ دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) سمیت پولیس کی تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے دوبارہ بڑھنے کی ایک وجہ انسداد دہشت گردی کے نظام کو مؤثر بنانے میں ناکامی بھی ہے۔‘
وزیراعظم کے مطابق خیبر پختونخوا کی پولیس اور سکیورٹی اداروں کو جدید اسلحے، آلات اور تربیت کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کو 800 ارب روپے فراہم کیے گئے
شہباز شریف نے کہا کہ ’سال 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت تمام صوبوں نے خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اضافی وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔‘ اُن کے مطابق، اِس فیصلے کے تحت وفاق اور صوبوں کے حصے سے ایک فیصد اضافی وسائل خیبر پختونخوا کے لیے مختص کیے گئے۔
وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ’سال 2010 کے بعد سے صوبے کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔‘ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’اس قدر وسائل مختص کیے جانے کے باوجود صوبے میں دہشت گردی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کے وزرائے اعلیٰ کو یہ یقین دلایا تھا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔‘
اُن کے مطابق، خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ تسلیم کرتے ہوئے اُس کی معاونت کرنے کے لیے وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں بدعنوانی کے معاملات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر ووٹ حاصل کیے لیکن صوبے میں بدعنوانی کے متعدد معاملات سامنے آئے۔‘
معیشت کی بحالی اور سیاسی مشاورت
وزیراعظم نے کہا کہ ’گزشتہ اڑھائی برس کے دوران حکومت نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے دن رات محنت کی ہے۔‘ اُن کے مطابق، سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ کوششوں سے معیشت مستحکم ہوئی ہے اور پاکستان کی معاشی بحالی کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔













