خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا: شہباز شریف
اتوار 18 اکتوبر 2026 8:57
ان کے مطابق ’حکومت ایسی صورتحال میں خاموش تماشائی نہیں بن سکتی تھی، اسی لیے سخت اور مؤثر اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی تازہ لہر اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر اور ملک وقوم کے بہترین مفاد میں کیا گیا ’ایک مجبوری کا فیصلہ‘ تھا۔
سنیچر کو گوجرانوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ ’افغان سرحد کی جانب سے دہشت گردی کے دوبارہ آغاز کے بعد سکیورٹی صورتحال تشویشن اک ہو چکی ہے جہاں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری اور بچے بھی نشانہ بن رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’حکومت ایسی صورتحال میں خاموش تماشائی نہیں بن سکتی تھی، اسی لیے سخت اور مؤثر اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔‘
’صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی گئی‘
شہباز شریف نے بتایا کہ وفاق نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے، انتظامی فیصلوں اور وسائل کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون کی سنجیدہ پیشکش کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر مشتمل کمیٹی نے مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات بھی کیے اور ایک مسودہ طے پا گیا تھا، تاہم آخری لمحات میں شرکا کی جانب سے مزید وقت مانگنے کی وجہ سے معاملات نہ طے ہو سکے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وہ جلد خود خیبر پختونخوا کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ’صوبے میں حالات کی بہتری کے لیے قائم کردہ ایڈوائزری کونسل میں غیر سیاسی اور اہل افراد کی اکثریت کو شامل کیا گیا ہے تاکہ معاملات کو شفافیت سے آگے بڑھایا جا سکے۔‘