’نووارٹِس‘ کی دوا سے بریسٹ کینسر سے موت کا خطرہ 19 فیصد کم ہونے کا انکشاف
جمعہ 23 اکتوبر 2026 17:59
نووارٹس کی دوا کسکالی سرطان کے خلیات کی افزائش اور تقسیم کی رفتار سست کر کے کام کرتی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
سوئس دوا ساز کمپنی نووارٹس کی دوا کسکالی (Kisqali) نے بریسٹ کینسر (چھاتی کے سرطان) کی ایک ایسی قسم میں مبتلا خواتین کی زندگی کو طول دینے میں مدد دی ہے، جس کا ابتدائی مرحلہ ہونے کے باوجود دوبارہ پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
میڈرڈ میں جمعے کے روز یورپی سوسائٹی برائے میڈیکل آنکولوجی کی کانگریس میں پیش کیے گئے کلینیکل ٹرائل کے نتائج کے مطابق، چھ سال کے عرصے میں اِس دوا نے مریضوں کی موت کا خطرہ 19 فیصد تک کم کر دیا۔
چھ سال بعد کسکالی اور ہارمون تھراپی حاصل کرنے والی خواتین میں سے 91.9 فیصد زندہ تھیں، جبکہ صرف ہارمون تھراپی لینے والی خواتین میں زندہ رہنے کی شرح 89.7 فیصد تھی۔
پانچ سال کے عرصے میں دونوں گروہوں کے زندہ رہنے کی شرح کے درمیان فرق 1.2 فیصد پوائنٹ تھا، جو چھ سال بعد بڑھ کر 2.1 فیصد پوائنٹ ہو گیا۔
ابتدائی طور پر توقع کی جا رہی تھی کہ مریضوں کے زندہ رہنے کی شرح میں فرق نمایاں ہونے کے لیے تقریباً 10 سال تک اِن کا جائزہ لینا پڑے گا۔ تاہم، اِس کلینیکل ٹرائل کے سربراہ، محقق اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) سے وابستہ ڈینس سلیمَن نے کہا کہ ’ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ہم اِس سے بھی پہلے فرق دیکھ رہے ہیں۔‘
کسکالی سرطان کے خلیات کو فوری طور پر ہلاک کرنے کی بجائے اُن کی افزائش اور تقسیم کی رفتار سست کر کے کام کرتی ہے۔ سرطان کے خلیات جتنی دیر تک تقسیم ہونے سے رُکے رہتے ہیں، اُس قدر ہی یہ امکان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ مستقل طور پر تقسیم ہونا بند کر دیں اور مر جائیں۔
یہ دوا پہلے ہی امریکہ اور یورپی یونین میں بریسٹ کینسر کے دوسرے یا تیسرے مرحلے میں مبتلا اُن مریضوں کے علاج کے لیے منظور شدہ ہے، جن میں سرطان کے دوبارہ نمودار ہونے کا خطرہ زیادہ ہو۔
مالیاتی تجزیاتی ادارے ویزیبل الفا کے تخمینوں کے مطابق، تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ رواں سال اس دوا کی فروخت تقریباً 7 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
