Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا پائلٹس اور فضائی عملے کو ریڈی ایشن کیسنر کا سب سے زیادہ خطرہ ہے؟

فلائٹ اٹینڈنٹس میں ریڈی ایشن سے جڑے کینسر کے باعث اموات کے امکانات 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں (فائل فوٹو: سی بی سی)
ایک تازہ ترین طبی تحقیق کے مطابق ہوائی جہاز کے عملے، یعنی پائلٹس اور فلائٹ اٹینڈنٹس میں ریڈی ایشن (شعاعوں) کے باعث ہونے والے کینسر سے موت کا خطرہ کسی بھی دوسرے پیشہ ور فرد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
یہ خطرہ تابکار مادوں یا ایٹمی شعبے سے منسلک افراد سے بھی زیادہ پایا گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جریدے ’جاما انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 12 ملین سے زائد ڈیتھ سرٹیفکیٹس اور ملازمین کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں شامل ہارورڈ میڈیکل سکول کے ڈاکٹر وشال پٹیل کا کہنا ہے کہ 500 سے زائد مختلف پیشوں کے موازنے میں فلائٹ اٹینڈنٹس میں ریڈی ایشن سے جڑے کینسر سے اموات کا تناسب پہلے جبکہ پائلٹس میں دوسرے نمبر پر رہا۔
کینسر کے خطرات اور خلائی شعاعیں
زمین پر خلائی ریڈی ایشن (کاسمک ریڈی ایشن) کی بہت کم مقدار پہنچتی ہے لیکن بلندی پر پرواز کرنے والے ہوائی جہازوں میں موجود افراد اس سے براہِ راست اور زیادہ مقدار میں متاثر ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق فلائٹ اٹینڈنٹس میں عام ملازمت پیشہ افراد کی نسبت ریڈی ایشن سے جڑے کینسر کے باعث اموات کے امکانات 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ پائلٹس میں یہ امکان عام لوگوں کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ پایا گیا ہے۔ مطلق اعداد و شمار کے لحاظ سے فلائٹ اٹینڈنٹس کی کل اموات میں سے قریباً 6.9 فیصد (یعنی ہر 14 میں سے 1) اور پائلٹس کی 6.7 فیصد اموات انہی کینسرز کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ عام آبادی میں یہ تناسب 5 فیصد ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی عملے میں غیر ریڈی ایشن کینسرز سے اموات کا تناسب نارمل رہا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تحقیق میں خاص طور پر لیوکیمیا، لیمفوما، سکن کینسر، چھاتی، پروسٹیٹ اور تھائیرائیڈ کے کینسر کا جائزہ لیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی عملے میں غیر ریڈی ایشن کینسرز سے اموات کا تناسب نارمل رہا جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کی بنیادی وجہ ان کا لائف سٹائل نہیں بلکہ دورانِ پرواز ریڈی ایشن کا سامنا کرنا ہے۔
حکومتی پالیسی اور تحفظات
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اس بات تسلیم کرتی ہے کہ فضائی عملہ پرواز کے دوران آئیونائزنگ ریڈی ایشن سے متاثر ہوتا ہے، تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی باقاعدہ حد مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی ریڈی ایشن کی مقدار کی نگرانی کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر وشال پٹیل کا کہنا تھا کہ ’آپ کسی ایسے خطرے کو کنٹرول یا مینیج نہیں کر سکتے جسے آپ نے نہ ناپنے کا فیصلہ کر رکھا ہو۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلندی پر پرواز کرنے والے عملے کے لیے سالانہ جلد کے معائنے کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب 55 ہزار فلائٹ اٹینڈنٹس کی نمائندگی کرنے والی تنظیم کی صدر سارا نیلسن کا کہنا ہے کہ ’خطرات سب کو معلوم ہیں لیکن عملے کو نہ تو آگاہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے۔‘
طبی ماہرین کی تجاویز
آسٹریلوی ریڈی ایشن ماہرین کیتھرین اولسن اور کین کاریپیڈس کا کہنا ہے کہ بلندی پر پرواز کرنے والے عملے کے لیے سالانہ جلد کے معائنے کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے جبکہ خواتین ملازمین کو کم عمری یا وقفے وقفے سے میمو گرام کروانے چاہییں۔ ماہرین نے معالجین کو بھی ہدایت کی ہے کہ پائلٹس اور فلائٹ اٹینڈنٹس کا طبی معائنہ کرتے وقت کینسر کی علامات پر خصوصی توجہ دیں۔

 

شیئر: