Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اہم پیش رفت‘: بڑے تجربے میں جلد کے کینسر کا علاج کرنے والی دوا کامیاب

آنکولوجسٹ اور اسسٹنٹ پروفیسر لینارڈ لی، جو اس تجربے کا حصہ نہیں تھے، نے نتائج کو ’بہت حوصلہ افزا‘ قرار دیا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی دوا ساز کمپنیوں مرک اور موڈرنا نے کہا ہے کہ کینسر کی دوا نے ایک تجربے میں آخری مرحلے پر میلانوما ٹیومرز (جلد کے کینسر) کی دوبارہ افزائش کو کم کرنے میں کامیابی دکھائی ہے، جسے ماہرین نے ’اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس خبر کے بعد موڈرنا کے حصص 145 فیصد بڑھ کر 154 ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ مرک کے حصص 12 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 152 ڈالر ہو گئے۔
یہ دوا جسے ’انٹِسمیران آٹو جین‘ کہا جاتا ہے اسی میسنجر آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جس نے کووڈ 19 ویکسینز کو ممکن بنایا تھا۔
محققین کئی برسوں سے کینسر کے خلاف ایم آر این اے علاج آزما رہے تھے، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ ایسی دوا نے بڑے اور آخری مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں مثبت نتائج دیے ہیں۔
موڈرنا کے سی ای او سٹیفان بانسل نے کہا کہ ’آج کا دن موڈرنا، ایم آر این اے سائنس اور سب سے بڑھ کر کینسر کے مریضوں کے لیے ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے۔‘
یہ تجربہ تقریباً ایک سال جاری رہا اور اس میں 11 سو سے زائد مریض شامل تھے۔ ان مریضوں کے کینسر کو سرجری کے ذریعے نکالنے کے بعد انہیں گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے دو تہائی کو نئی دوا کے ساتھ پیمبرولیزوماب، موجودہ معیاری علاج، دیا گیا، جبکہ باقی کو صرف پیمبرولیزوماب دیا گیا۔
کمپنیوں نے کہا کہ وہ اپنا ڈیٹا ایک آنے والی بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کریں گی اور منظوری کے لیے ریگولیٹرز کے پاس درخواستیں جمع کرائیں گی۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے آنکولوجسٹ اور اسسٹنٹ پروفیسر لینارڈ لی، جو اس تجربے کا حصہ نہیں تھے، نے نتائج کو ’بہت حوصلہ افزا‘ قرار دیا اور کہا کہ ’اب ہمیں مکمل ڈیٹا دیکھنے کی طرف جانا چاہیے۔‘
لندن کے بارٹس کینسر انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر مارکو گرلنگر نے کہا کہ میلانوما کے مریضوں کے لیے خوشخبری ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ’ثبوت‘ بھی ہے کہ شخصی نوعیت کی کینسر ویکسینز کام کرتی ہیں۔

میلانوما جلد کے کینسر کی سب سے مہلک اقسام میں سے ایک ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ نئی کینسر امیونو تھراپیز کی ترقی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پریس ریلیز میں تفصیلات کم ہیں۔
علاج کا طریقہ کار
یہ علاج مریض کے ٹیومر کا نمونہ لے کر اس کے منفرد جینیاتی’فنگر پرنٹ‘ کی نشاندہی کرتا ہے، پھر ایم آر این اے ٹیکنالوجی کے ذریعے اس کے خلاف مدافعتی ردعمل پیدا کرتا ہے۔
میسنجر آر این اے ٹیکنالوجی مصنوعی مالیکیولی ہدایات استعمال کرتی ہے جو چھوٹے چربی کے ببلز میں بند ہو کر وقتی طور پر خلیوں میں داخل ہوتی ہیں، اور انہیں ایسے اہداف بنانے پر مجبور کرتی ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو تربیت دیتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی کئی دہائیوں پہلے تصور کی گئی تھی لیکن کووڈ 19 وبا کے دوران سامنے آئی، جب موڈرنا اور فائزر نے ایسی ویکسینز تیار کیں جو بیماری کی سنگین شکلوں کے خلاف انتہائی مؤثر ثابت ہوئیں۔
میلانوما جلد کے کینسر کی سب سے مہلک اقسام میں سے ایک ہے، جس کے 2022 میں دنیا بھر میں تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ نئے کیسز تشخیص ہوئے۔

 

شیئر: