Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سگریٹ نوشی سے ہر شخص کینسر کا شکار کیوں نہیں ہوتا؟ نئی تحقیق

زیادہ تر سگریٹ نوش افراد کو پھیپھڑوں کا کینسر نہیں ہوتا (فوٹو: پکسابے)
سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں پہلی بار براہِ راست شواہد پیش کیے ہیں کہ سگریٹ نوشی، الٹرا وائلٹ (یو وی) شعاعوں اور دیگر ماحولیاتی عوامل سے ڈی این اے کو پہنچنے والا نقصان ہر فرد میں یکساں نتائج پیدا نہیں کرتا۔
تحقیق کے مطابق کسی شخص کا وراثتی جینیاتی پس منظر اس بات میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ آیا یہ نقصان کینسر میں تبدیل ہوگا یا نہیں اور اگر کینسر پیدا ہو جائے تو ٹیومر کس انداز سے نشوونما پائے گا۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہوئی ہے اور اسے برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج، یونیورسٹی آف ایڈنبرا اور یورپ و امریکہ کے دیگر تحقیقی اداروں کے اشتراک سے انجام دیا گیا۔
تاہم یہ تحقیق انسانوں کے بجائے چوہوں پر کی گئی ہے، اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی انسانوں میں مزید تحقیق کے ذریعے تصدیق ضروری ہوگی۔
تحقیق کے مطابق کینسر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ڈی این اے میں مسلسل جینیاتی خرابیاں یا میوٹیشنز جمع ہونے لگتی ہیں، جس کے نتیجے میں خلیات بے قابو ہو کر بڑھنے لگتے ہیں۔ تمباکو کا دھواں، سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں اور دیگر ماحولیاتی عوامل اس عمل کو تیز کر سکتے ہیں، لیکن ایک ہی ماحول میں رہنے والے تمام افراد میں کینسر پیدا نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر زیادہ تر سگریٹ نوش افراد کو پھیپھڑوں کا کینسر نہیں ہوتا جبکہ بعض ایسے افراد بھی اس بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نہیں پی۔
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے محققین نے مختلف وراثتی جینیاتی خصوصیات رکھنے والے چوہوں کی چار نسلوں پر تجربات کیے۔ تمام چوہوں کو ایک ہی عمر میں سرطان پیدا کرنے والے کیمیائی مادے ڈائیتھائل نائٹروسامین (ڈی ای این) کی یکساں مقدار دی گئی، جس سے ماحولیاتی فرق کو ختم کر کے صرف وراثتی جینیاتی اثرات کا جائزہ لیا جا سکا۔

تحقیق کے شریک سربراہ پروفیسر ڈنکن اوڈم کے مطابق کینسر محض اتفاق سے پیدا نہیں ہوتا (فوٹو: پکسابے)

بعد ازاں تقریباً 600 ٹیومرز کے جینوم اور جینیاتی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگرچہ تقریباً تمام ٹیومرز میں سرطان سے وابستہ ’ایم اے پی کے‘ سگنلنگ راستہ متحرک ہوا، تاہم مختلف وراثتی جینیاتی پس منظر رکھنے والے چوہوں میں سرطان پیدا کرنے والی جینیاتی تبدیلیاں اور ٹیومر کی ارتقائی کیفیت ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف تھیں۔
تحقیق کے شریک سربراہ پروفیسر ڈنکن اوڈم کے مطابق کینسر محض اتفاق سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ ہر فرد کا وراثتی جینیاتی پس منظر اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ سرطان کس راستے سے نشوونما پاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر یہی نتائج انسانوں میں بھی درست ثابت ہوئے تو مستقبل میں کینسر کی روک تھام، سکریننگ اور پریسیژن میڈیسن کے تحت علاج کی منصوبہ بندی میں مریض کے وراثتی جینیاتی پس منظر کو زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے۔
اس سے ایسے افراد کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے گی جن میں ڈی این اے کو پہنچنے والا نقصان کینسر میں تبدیل ہونے کا خطرہ زیادہ رکھتا ہے اور علاج بھی ہر مریض کی جینیاتی خصوصیات کے مطابق ترتیب دیا جا سکے گا۔

شیئر: