Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض ایئرپورٹ حملے میں ایک بیٹی کھونے والا باپ، دوسری بیٹی کی زندگی کے لیے دعاگو

سعود مناحی السراح کی تمام تر توجہ طلا کی صحتیابی پر مرکوز ہے (فوٹو: عرب نیوز)
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں اپنی ایک بیٹی کو کھونے والے سعودی والد اپنی چھوٹی بیٹی کی صحتیابی کے لیے پُرامید ہیں جو تاحال زیرِ علاج ہے۔
سعود مناحی السراح نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی بیٹی عروب کی وفات پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے مملکت بھر کے لوگوں کی جانب سے اپنے خاندان کو ملنے والی حمایت اور ہمدردی پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔
عروب اپنی والدہ اور چھوٹی بہن طلا کے ہمراہ ریاض سے الجوف جانے کی تیاری کر رہی تھیں کہ اسی دوران ایئرپورٹ پر حملہ ہو گیا۔
حملے میں دونوں بہنیں زخمی ہو گئی تھیں۔ عروب بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں جبکہ طلا کو طبی علاج کے لیے ریاض منتقل کر دیا گیا۔
السراح نے کہا کہ ’میرے پاس ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں جنہوں نے ہم سے تعزیت کی، ہمیں تسلی دی اور ہمارے غم میں شریک ہوئے۔ میں ہر اُس مخلص دل کا شکر گزار ہوں جس نے ہمارے لیے دعا کی اور ہر اُس محبت بھرے لفظ کا جس نے ہمارے دکھ کو کم کرنے میں مدد دی۔‘
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق الجوف کے علاقے دومتہ الجندل کے رہائشی عروب کی وفات پر سوگوار ہیں کیونکہ اس المناک واقعے سے قبل ان کا خاندان عروب کے بھائی کی شادی کی خوشیاں منانے کی تیاری کر رہا تھا۔
السراح نے مزید کہا کہ ’یہ سعودی عوام کی اعلیٰ ظرفی اور انسان دوستی ہے۔ آپ کے رویّوں اور طرزِ عمل نے اخوت، یکجہتی اور قومی اتحاد کی بہترین مثالیں پیش کی ہیں۔ آپ نے ثابت کیا ہے کہ سعودی عرب کے کسی ایک خاندان کی تکلیف سب کی مشترکہ تکلیف ہے، اور ہم ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے دل آزمائش کی گھڑی میں بھی ایک ساتھ دھڑکتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے خوشی کے مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ سب کو ہماری طرف سے بہترین اجر عطا فرمائے، آپ کو اپنے کسی عزیز کی جدائی کے صدمے سے محفوظ رکھے، ہمارے وطن، ہماری قیادت اور ہماری قوم کو ہر برائی سے محفوظ فرمائے، ہمارے شہداء پر رحم فرمائے اور میری پیاری، نیک سیرت بیٹی عروب السراح پر بھی اپنی رحمت نازل فرمائے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے شہادت کے لیے چن لیا۔‘
خاندان جہاں عروب کی جدائی کے غم میں ڈوبا ہوا ہے وہیں السراح کی تمام تر توجہ طلا کی صحتیابی پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں اپنی پیاری بیٹی طلا کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے جلد صحتیابی عطا فرمائے، اسے صحت و عافیت دے، اسے خیریت کے ساتھ ہمارے پاس واپس لائے اور اسے مکمل طور پر صحتیاب دیکھ کر ہمارے دلوں کو خوشیوں سے بھر دے۔‘
اظہارِ یکجہتی کا سلسلہ صرف تعزیتی پیغامات تک محدود نہیں رہا۔ رپورٹس کے مطابق اسی حملے میں زخمی ہونے والے بعض افراد نے اہلِ خانہ سے خود تعزیت کرنے کے لیے الجوف کا سفر بھی کیا۔
سرکاری سطح پر ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز نے دارالحکومت کے ہسپتالوں میں زیرِ علاج زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور زخمیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔

شیئر: