شاہ خالد ایئرپورٹ پر حوثی حملہ، انڈین خاندان کی عمرے کی خوشیاں ماتم میں تبدیل
شاہ خالد ایئرپورٹ پر حوثی حملہ، انڈین خاندان کی عمرے کی خوشیاں ماتم میں تبدیل
جمعرات 15 اکتوبر 2026 17:13
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف علی پیشے کے اعتبار سے آئی ٹی انجینئر تھے (فوٹو: عرب نیوز)
محمد یوسف علی اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ جوس خریدنے گئے تھے، جب کہ خاندان کے باقی افراد مدینہ جانے والی پرواز کے انتظار میں تھے۔ وہ ابھی چند سو میٹر ہی دور گئے تھے کہ حوثیوں کا ایک میزائل اِس علاقے میں آ گرا، جس کی زد میں آکر دونوں باپ بیٹا شدید زخمی ہو گئے۔
دونوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں والد کی حالت تشویش ناک تھی۔
محمد یوسف علی کے کزن اور پڑوسی محمد اکبر ہاشمی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یوسف انتقال کر گئے۔ ان کی ایک ٹانگ مکمل طور پر کٹ گئی تھی اور وہ دوسرے روز دم توڑ گئے۔ ‘
محمد یوسف علی اُن 13 افراد میں شامل تھے جو 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں جان سے گئے۔ اِس حملے میں 300 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف علی پیشے کے اعتبار سے آئی ٹی انجینئر تھے اور سعودی عرب اور انڈیا کے درمیان کام کے سلسلے میں سفر کرتے رہتے تھے۔ اس مرتبہ جب وہ اپنے گھر واپس آئے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگلا سفر پورا خاندان ایک ساتھ کرے گا۔
والد، والدہ، دو بیٹے، بیٹی اور خالہ عمرے کی ادائیگی کے لیے ایک ساتھ سفر کر رہے تھے۔
یہ پورے خاندان کا ایک ساتھ پہلا عمرہ تھا۔ اس سفر کا مقصد بڑے بیٹے کی انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے داخلے کے امتحانات میں کامیابی کی خوشی منانا بھی تھا۔
محمد اکبر ہاشمی نے کہا کہ ’بڑے بیٹے کے انجینئرنگ کالج میں داخلہ لینے کے بعد عمرے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا ایک طریقہ تھا۔‘
دونوں بیٹے اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ بیٹی اور خالہ کو نسبتاً معمولی چوٹیں آئی تھیں اور انہیں علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اہلیہ واحد فرد تھیں جنہیں ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
محمد اکبر ہاشمی نےکہا کہ ’اُن کی حالت اب مستحکم ہے اور وہ ہسپتال میں بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’بڑے بیٹے کے دونوں گھٹنوں کی ہڈیوں کی جگہ مصنوعی ہڈیاں لگائی گئی ہیں، جبکہ اُس کے پیٹ کا آپریشن بھی کرنا پڑا، کیونکہ شیشے کے ٹکڑے پیٹ میں گُھس گئے تھے اور جگر تک پہنچ گئے تھے۔‘
10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں 300 افراد زخمی بھی ہوئے (فوٹو: روئٹرز)
بڑے بیٹے کو مزید تین ہفتے ہسپتال میں رہنا پڑے گا۔ اسے اور اس کے بہن بھائیوں کو والد کی موت کے بارے میں بتا دیا گیا ہے۔
محمد اکبر ہاشمی نے کہا کہ ’میں پورے خاندان پر طاری صدمے کی کیفیت لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا، انہوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حوثیوں کا سعودی عرب پر یہ حملہ غلط ہے، بالکل غلط۔ شہری ہوائی اڈوں اور شاپنگ مالز کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔‘