’سعودیوں کے حوصلے بلند‘: تائیکوانڈو سٹار نے ریاض ایئرپورٹ پر کیا دیکھا؟
جمعرات 15 اکتوبر 2026 7:01
صباح العسیری نے کہا کہ ایسا لگا کوئی چیز دھماکے سے پھٹی اور ٹکرے ہر طرف بکھر گئے ( فوٹو: الشرق الاوسط)
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں زخمی ہونے والوں میں سعودی تائیکوانڈو سٹار صباح العسیری شامل ہیں جو کنگ فہد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
انہوں نے پرعزم لہجے میں کہا کہ ’ہمیں آگے بڑھنے اور کامیابی حاصل کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ سعودیوں کے حوصلے ہمیشہ بلند رہتے ہیں۔ کچھ بھی ہو ہماری ہمتوں کو پست نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا۔ جدہ جانے کے لیے ایئرپورٹ کے لاؤنج میں والد کے ساتھ بیٹھی تھی۔ فلائٹ میں ابھی وقت تھا اس لیے ویٹنگ ایریا میں بیٹھی موبائل دیکھ رہی تھی۔ والد صاحب سے کہا کہ بور ہو رہی ہوں کہ کیوں نہ تھوڑی دیر کے لیے گھوم آؤں۔‘
جس پر والد نے جواب دیا کہ اب صرف پانچ منٹ ہی رہ گئے ہیں بورڈنگ میں اس لیے آرام سے یہیں رہیں۔ والد کا جواب سن کر بیٹھ گئی اور موبائل پھر دیکھنے لگی۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک لمحے سے بھی کم وقت میں معلوم نہیں کیا ہوا۔ ایسا لگا کوئی چیز دھماکے سے پھٹی اور اس سے نکلنے والے ٹکرے ہر طرف بکھر گئے۔ میرے ہاتھ میں موجود موبائل دور جاگرا اور کسی چیز کا ٹکرا میرے ہاتھ سے ٹکرایا اور اس سے خون بہنے لگا۔‘

ان کے مطابق ’میرے بازو سے خون جاری تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔ میں چیخنے لگی، ایسا محسوس ہوا کہ میرا ہاتھ کٹ گیا ہے۔ اپنا بیگ اٹھایا اور باہر کی جانب بھاگنے لگی۔ سب سے پہلے لاؤنج سے باہر نکلی، ہماری حالت دیکھ کر وہاں موجود لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔‘
صباح العسیری نے کہا کہ ’الحمدللہ اب حالت بہتر ہے۔ ابتدائی آپریشن ہو گیا۔ اب دوسرا اور تیسرا مرحلہ بھی بہتر طور پر طے ہو جائے گا۔‘
ہسپتال میں موجود ان کے والد محمد العسیری نے کہا کہ ’ایئرپورٹ کے واقعے کے بعد کنگ فہد ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں بیٹی کا بہترین طریقے سے علاج کیا گیا۔‘
علاوہ ازیں وزیر صحت فہد الجلاجل نے صباح العسیری کی عیادت کی۔ اس موقع پر الشباب کلب کے چیئرمین عبدالعزیز المالک بھی موجود تھے۔

الشباب کلب کے چیئرمین نے صباح العسیری اور ان کے اہل خانہ کو وزیر سپورٹس شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔
واضح رہے صباح العسیری نے بین الاقوامی مقابلوں میں سعودی عرب کے لیے گولڈ میڈل حاصل کیے ہیں۔ زخمی ہونے کے باوجود مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے ان کا عزم اور حوصلہ برقرار ہے۔
