تیل کا عالمی بحران: آئی ای اے کا ہنگامی ذخائر سے 325 ملین بیرل فراہمی کا اعلان
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اپنے اتحادیوں پر ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے کہا ہے کہ رکن ممالک اپنے سٹریٹجک ذخائر سے مارچ میں وعدہ کیے گئے 400 ملین بیرل میں سے 325 ملین بیرل تیل اور تیل سے تیار کردہ مصنوعات جاری کر چکے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ تازہ ترین اعلان سنیچر کو ایک دن بعد سامنے آیا جب جی سیون ممالک نے آئی ای اے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کی جنگ کے اثرات سے پیدا ہونے والے عالمی توانائی سپلائی کے خدشات کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر 100 ملین بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا۔
جی سیون نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ 100 ملین بیرل مارچ میں آئی ای اے کے وعدے کے تحت باقی ماندہ 75 ملین بیرل میں شامل ہیں یا ان کے علاوہ ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اپنے اتحادیوں پر ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو کم کیا جا سکے، جس کا اثر امریکہ سمیت دیگر ممالک میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔
ڈیزل کی محدود فراہمی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے نتائج میں سے ایک ہے، جہاں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے۔
روس کے خلاف جوابی کارروائی کے طور پر یوکرین کے روسی آئل ریفائنریز پر حملوں نے بھی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔
آئی ای اے نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ ’11 مارچ کو اعلان کردہ آئی ای اے کے اجتماعی اقدام کے تحت تقریباً 325 ملین بیرل جاری کیے جا چکے ہیں، جو اصل میں وعدہ کیے گئے 400 ملین بیرل کا 80 فیصد سے زائد بنتے ہیں۔‘
مارچ میں کیا گیا یہ وعدہ آئی ای اے کے 32 رکن ممالک کی جانب سے کیا گیا تھا جن میں تمام جی سیون ممالک برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ شامل ہیں۔
