امریکہ وینزویلا کی طرح ایران کا تیل بھی قبضے میں لے سکتا ہے: صدر ٹرمپ
امریکہ وینزویلا کی طرح ایران کا تیل بھی قبضے میں لے سکتا ہے: صدر ٹرمپ
پیر 14 ستمبر 2026 5:57
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی (فوٹو: اے ایف پی)
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اشارہ دیا کہ امریکہ ایران میں موجود رہ سکتا ہے اور ’تیل اپنے قبضے میں رکھ سکتا ہے‘۔ انہوں نے اس معاملے کا موازنہ امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر کے پانچویں حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش سے کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو آئرلینڈ کے دورے اور گالف میچ دیکھنے کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا انہیں توقع ہے کہ ایران جنگ رواں برس ختم ہو جائے گی اور ایسا ممکنہ طور پر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ’ایران جنگ ختم ہوتے ہی پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔‘
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈیاں شدید متاثرہوئی ہیں جبکہ سعودی تیل پائپ لائن پر حملے کے بعد تیل کے تاجروں کا کہنا ہے کہ پیر کے روز قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ صرف ’درست معاہدہ‘ کریں گے اور ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو ’اچھا نہ ہو۔‘
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران امن مذاکرات کے لیے مسلسل رابطے کر رہا ہے تاہم تہران ماضی میں ہونے والے ایسے دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے۔
ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی تجارت متاثر ہوئی اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر نے ایک ایک تجویز سامنے لاتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات جاری رکھے جا سکتے ہیں اور اس کا موازنہ وینزویلا کے ساتھ اگست میں ہونے والے اس معاہدے سے کیا جو وہاں تیل کی پیداوار سے متعلق تھا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ’بالآخر ہم ایران سے نکل جائیں گے جب تک ہم وہاں رہنے اور وینزویلا کی طرح تیل اپنے قبضے میں رکھنے کا فیصلہ نہ کر لیں۔‘
انہوں نے وینزویلا سے امریکہ کو حاصل ہونے والے آمدنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جنگ کے کئی گنا اخراجات پورے کر دیے ہیں۔‘
خیال رہے امریکہ اور اسرائیل نے 28 اکتوبر کو ایران پر حملہ کیا تھا جس کے ساتھ ہی جنگ چھڑ گئی تھی۔ امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ ایران جواباً خلیجی ممالک میں اس کے بیسز کو نشانہ بناتا رہا اور تیل کی تجارت کے حوالے سے اہم ترین سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا جس کی وجہ سے چند ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دونوں مالک کے درمیان ثالثی کے لیے چند ممالک متحرک ہوئے جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔ اس نے فریقین کے درمیان اپریل میں اسلام آباد میں مذاکرات کا اہتمام بھی کیا جس کے چند روز بعد جنگ بندی ہوئی تاہم وہ زیادہ برقرار نہیں رہ سکی اور فریقین نے ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا جو ابھی تک نہیں رک سکا ہے۔