امریکہ ’بڑے معاشی حملے‘ کے لیے تیار، ایران کی تیل کی تمام تجارت روکنے کی دھمکی
امریکہ ’بڑے معاشی حملے‘ کے لیے تیار، ایران کی تیل کی تمام تجارت روکنے کی دھمکی
پیر 24 اگست 2026 9:39
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ مطابق پیرکو ایران کے خلاف معاشی ڈی ڈے شروع ہو گا (فوٹو: اے ایف پین)
امریکہ نے ایران کو ’اب تک کی سب سے بڑے معاشی حملے‘ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے شرکت داروں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو وہ خلیج سے تیل کی تمام برآمدات روک دے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ آج امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے ایک پریس کانفرنس کریں گے جس میں ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کے اعلانات متوقع ہیں۔
1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران کو تسلسل کے ساتھ امریکی اقتصادی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔
سکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا کہ ’صبح ہوتے ہی اقتصادی ڈی ڈے شروع ہو گا، یہ کسی مخالف ملک کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی ہو گی۔‘
اگرچہ امریکہ اور ایران نے کئی ہفتے سے ایک دوسرے پر حملے نہیں کیے تاہم چھ ماہ سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے کوئی بامعنی مذاکرات بھی نہیں ہو سکے۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان میں مارے گئے۔
ان حملوں میں ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی جان سے گئے جبکہ ملک کی معیشت پر بھی شدید دباؤ پڑا۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی لڑائی کا سلسلہ جاری ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تاہم خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد اب بھی ایران کے پاس اتنے میزائل اور ڈرون موجود ہیں کہ وہ خلیجی ممالک کو مزید بھی نشانہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کے جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
اس صورت حال میں سمندر کے اس اہم راستے پر بحری آمد و رفت قریباً رک گئی ہے اور پوری دنیا میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کی صورت حال اب بھی پوری طرح واضح نہیں ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل اس کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔
سکاٹ بیسنٹ نے مخصوص اقدامات کی تفصیل بتائے بغیر اشارہ دیا کہ امریکہ ان ممالک کو بھی نشانہ بنائے گا جو ایران کے ساتھ اقتصادی اور مالی تعلقات برقرار رکھ کر اسے فائدہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ’ان ممالک کو ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔‘
ایران پچھلے کئی دنوں سے ممکنہ پابندیوں سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے جبکہ اس دوران اس کی جانب سے سخت بیانات بھی جاری ہوئے ہیں جن میں بڑے فوجی ردعمل کا عندیہ بھی شامل ہے۔
ایران کی جانب سے تیل کی تمام تجارت روکنے کی دھمکی دی گئی ہے (فوٹو: اے پی)
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اتوار کے روز جوابی اقتصادی کارروائی کا اشارہ دیا۔
’اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو تیل کا ایک قطرہ بھی برآمد نہیں ہو گا، نہ آبنائے ہرمز کے راستے اور نہ ہی خلیج عرب کے کسی اور مقام سے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ہر اس ملک کے اقدام کو ایرانی عوام کے خلاف جنگی اقدام تصور کرے گا جو ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی جنگ کا حصہ بنے گا یا اس کی حمایت کرے گا۔
سکاٹ بینسٹ نے اس سے پہلے چین پر بھی زور دیا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون کرے، جو اپنی تیل کی برآمدات کا قریباً نصف خلیجی خطے سے حاصل کرتا ہے۔
اس بیان کے بعد واشنگٹن میں چین کے سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پابندیاں اور دباؤ مسئلے کا حل نہیں، اس کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی طرف جانا چاہیے۔‘