Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کے ’ویژن‘ نے مملکت کو توانائی کے طویل ترین بحران سے نکلنے میں مدد دی: وزیرِ توانائی

سعودی وزیرِ توانائی نے کہا کہ بحران سے نمٹنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ متبادل راستے پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کریں (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا کہنا ہے کہ بدترین ممکنہ حالات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کی پالیسی نے مملکت کو اپنی تاریخ کے طویل ترین توانائی بحران سے نکلنے میں مدد دی۔
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے پیر کے روز ریاض میں منعقدہ 25 ویں عالمی توانائی کانگریس (ڈبلیو پی سی) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ’ویژن‘نے اسے امریکہ کی قیادت میں ایران کے ساتھ جاری جنگ جیسے واقعات کے باوجود ثابت قدم رہنے کے قابل بنایا ہے۔
فروری کے اختتام پر شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث خطے میں تیل کی ترسیل مسلسل متاثر ہو رہی ہے، جس سے عالمی توانائی سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ ’آپ کی سوچ اگر یہ ہے کہ توانائی کی سلامتی کو ہمیشہ کسی نہ کسی نوعیت کے مسائل کا سامنا رہے گا، تو پھر آپ کو خود کو اِن حالات کے لیے تیار رکھنا ہوگا اور اِن سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوگی۔‘
اُن سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا سال 2019 میں ابقیق اور خریص کی تنصیبات پر حملوں، کووڈ 19 کی وبا اور حالیہ واقعات سمیت مسلسل بحرانوں کے بعد توانائی کی منڈیاں معمول پر آ جائیں گی؟
انہوں نے جواب دیا کہ ‘ہم مختلف طرح کے ممکنہ حالات کے منظرنامے تیار کرتے ہیں اور پھر خود سے پوچھتے ہیں کہ اِن حالات میں ہمارا ردِعمل کیا ہوگا۔ اس عمل سے ہمیں اپنی صلاحیتوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ مستقبل کے اِن ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لیے ہم اپنی صلاحیتوں کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ ہم بدترین سے بدترین حالات کو بھی اپنے پیش نظر رکھتے ہیں۔‘
شہزادہ عبدالعزیز نے مزید کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران پیش آنے والی صورت حال جیسا تجربہ کسی کو نہیں ہوا۔ ان کے مطابق، ’ہم نے اس سے قبل اس قدر طویل توانائی بحران کبھی نہیں دیکھا۔‘
انہوں نے کہا کہ مارچ سے اگست تک ہر مہینہ ہر اُس شخص کے لیے سخت آزمائش کا دور رہا جو اِس صورتِ حال کے اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بحران سے نمٹنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ اپنی ثابت قدمی برقرار رکھنے اور متبادل راستے پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔‘
شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ سعودی عرب اس صورت حال پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے اشارتاً کہا کہ مملکت کے برآمدی اعداد و شمار جب سامنے آئیں گے تو وہ بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں اپنی برآمدات کے حجم کے بارے میں بڑھا چڑھا کر بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہاں موجود ہمارے بہت سے دوست یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ ہم آج کیا کچھ کر رہے ہیں۔‘

شیئر: