امریکہ اور اسرائیل ایرانی توانائی کے ڈھانچے پر بمباری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں: رپورٹ
رپورٹ کے مطابق’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال ان حملوں کی حتمی منظوری نہیں دی‘ (فائل فوٹو: گیٹی)
امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے بمباری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اور یہ حملے سنیچر یا اتوار کو کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال ان حملوں کی حتمی منظوری نہیں دی۔‘
اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر یہ کارروائی ہوتی ہے تو یہ ایران کے خلاف جاری امریکہ اسرائیل کی جنگ کے دوران ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر کیے جانے والے اب تک کے سخت ترین حملوں میں سے ایک ہوگی۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ حملوں کو پیر کے روز بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے کھلنے سے قبل مکمل کر لیا جائے، تاکہ ان کے ممکنہ معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’انتہائی سنجیدہ مذاکرات‘ جاری ہیں، تاہم اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو وہ ایران کے خلاف ’سخت فوجی کارروائی‘ کے لیے بھی تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے لیے زیادہ وقت نہیں دیا جائے گا، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، یا تو معاملات جلد طے ہوں گے یا پھر بالکل نہیں ہوں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے ایک بار پھر اپنی یہ دھمکی بھی دہرائی کہ ایران کے ساتھ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
